بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایام حج میں کس دن روزے کی ممانعت ہے؟


سوال

ایام حج میں کس دن روزے کی ممانعت ہے؟

جواب

دس ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک (چار ایام میں) روزہ رکھنا ہر ایک کے لیے ممنوع ہے، خواہ وہ حاجی ہو یا غیر حاجی، اور ان چار ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ باقی حاجی کو  نو ذوالحجہ کا روزہ بھی نہیں رکھنا چاہیے، کیوں کہ روزہ رکھنے کی صورت میں قوت کم ہوگی، اور مناسکِ حج کی ادائیگی اور وقوفِ عرفہ میں حرج ہوگا۔  البتہ اگر حاجی نو ذی الحجہ کا روزہ رکھنے پر قادر ہو کہ روزہ  کی وجہ سے رکنِ اعظم وقوف عرفہ میں خلل نہ آتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے نو ذی الحجہ کے روزے  کی اجازت ہوگی۔

حاجی کے علاوہ باقی افراد کے لیے نو ذی الحجہ کے روزہ  رکھنے کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے کہ یہ ایک روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے