بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اہلِ محلہ کے چندے سے چلنے والی مسجد کی بجلی سے موبائل وغیرہ چارج کرنے کا حکم


سوال

ایک مسجد جو اہلِ محلہ کی امداد سے چل رہی ہے یعنی ہر ایک رقم دیتا ہے، کوئی خاص بندہ معین نہیں کیا، ایسی مسجد میں جہاں پابندی بھی نہیں، کوئی بندہ موبائل چارج پر لگاتا ہے یا کوئی دوسری چیز بیٹری وغیرہ تو اس کے بارے کیا شرعی حکم ہے؟  کیا اس کا وہ چارج کرنا غیر شرعی ہے؟ مکمل وضاحت فرما دیجیے !

جواب

مسجد میں جو لوگ چندہ دیتے ہیں وہ لوگ مسجد کے اندر لوگوں کی اجتماعی و عمومی ضروریات کے اخراجات میں صرف کرنے کے لیے چندہ دیتے ہیں، اس لیے  اپنے ذاتی و انفرادی کاموں کے لیے مسجد کی بجلی استعمال کرنا درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی معتکف ہو تو اس کے لیے بقدرِ ضرورت گنجائش ہوگی، اور اگر کسی نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے مسجد کی بجلی استعمال کرلی ہو تو اسے چاہیے کہ اندازے سے اتنے پیسے مسجد کے چندے میں ڈال دے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200547

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے