بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

تیسری طلاق کو معلق کرنا


سوال

4 دسمبر 2019 کو میں نے اپنے سالے سے جا کر کہا کہ میں نے تمہاری بہن کو دو طلاقیں دے دی ہیں  اور اگر وہ 5 بجے تک گھر نہیں آئی تو تیسری طلاق ہو جائے گی، اس وقت وہ  حاملہ تھی، اب بتائیں کہ طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ نے جب اپنے سالے سے یہ جملہ کہا کہ "اور اگر وہ 5 بجے تک گھر نہیں آئی تو تیسری طلاق ہو جائے گی" تو اس جملہ سے آپ کی بیوی کی تیسری طلاق 5 بجے تک گھر نہ آنے کے ساتھ معلق تھی، اگر وہ اس دن شام 5 بجے گھر نہیں آئی ہو  تو تیسری طلاق بھی واقع سمجھی جائے گی اور نکاح ختم متصور ہو گا، ساتھ رہنا جائز نہیں ہو گا اور آپ کی اہلیہ کی عدت وضعِ حمل (یعنی بچے کی پیدائش) ہو گی، وضع حمل پر عدت ختم ہو جائے گی، عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

اور اگر وہ شام 5 بجے تک گھر آ گئی ہو تو تیسری طلاق واقع نہیں ہو گی، دو طلاقوں کے بعد  ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو عدت میں رجوع کر کے اور عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا  جائز ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 511):
"(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200773

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں