بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اگر میں نے فلاں کام کیا تو جس عورت سے میں شادی کرونگا اُسے طلاق کے الفاظ سے تعلیق طلاق کا حکم


سوال

میرا نام عمر عبداللہ ہے، جب میں سولہ سال کا تھا اُس وقت میں نے ایک دوست کے ساتھ کسی کام کو نہ کرنے کے سلسلے میں یوں کہا تھا\\'\\'اگر میں نے فلاں کام کیا تو جس عورت سے میں شادی کرونگا اُسے طلاق\\'\\'، ہوا یوں کہ وہ کام مجھے کرنا پڑگیا۔ چند سال بعد جب میری شادی کا موقع آیا اور یہ مسئلہ مختلف مسالک کے علماء سے ذکر کیا اور یہ بات واضح کی کہ اس بات سے مقصد محض پہلا نکاح مرادتھا نہ کہ ہر نکاح جو میں کروں، تو اُس وقت یہ بات سامنے آئی کہ حنفیہ کے علاوہ تینوں امام اس بات کے قائل ہیں کہ اس بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اور اس سلسلے میں ہندوستان کے کسی بڑے عالم جن کا نام شاید خالد کرکے تھا اُن کا فتویٰ بھی دکھایاگیا جس میں اُنہوں نے اس بات کے معتبر نہ ہونے کا فتویٰ دیا ہوا تھا۔ لہذا چار سال قبل میری حسبِ معمول شادی ہوگئی اور اب الحمدللہ میرے دو بچے بھی ہیں۔اب آپ حضرات سے یہ بات معلوم کرنی ہے کہ : کیا میری شادی شرعی لحاظ سے ٹھیک ہوئی ہے یا نہیں؟ اور کیا اس مسئلہ میں میرے لئے گنجائش تھی کہ حسبِ معمول نکاح کرلیتایا یہ صورت ضرورت کے تحت داخل نہیں ہوتی؟ اگر نہیں تو اب میری شادی کا کیا حکم ہے؟ اور میرے دو بچوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی جلد جواب عنایت کرکے میری مشکل دور کریں۔ 

جواب

سائل کے الفاظ (اگر میں نے فلاں کام کیا تو جس عورت سے میں شادی کروں گا اسے طلاق) میں چونکہ طلاق کو شادی کی طرف منسوب کرکے معلق کیا گیا ہے، اس طرح کی تعلیق احناف کے ہاں درست ہے، اس لیئے  سائل کے نکاح کرتے ہی شرط پائے جانے کی وجہ طلاق واقع ہوچکی ہے، سائل کے لیئے اب حکم یہ ہے کہ نیا مہر مقرر کرکے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرے۔ اور اب تک جو وقت بحیثیت میاں بیوی کے گزارا اس پر توبہ واستغفار کرے۔ بچوں سے متعلق حکم یہ ہے کہ  سائل نے پہلا نکاح چونکہ  مسئلہ پوچھ کےکیا تھااور اس کو بتلایاگیا کہ اس کی تعلیق کااعتبار نہیں،  جس کی وجہ سے سائل نے اپنے نکاح کو درست  سمجھا  اس لیئےشبہ نکاح کی بناء پر سائل کے بچوں کا نسب سائل سے ثابت ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143711200003

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے