بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اگر بیٹا والد کے مکان پر ایک منزل ڈال دے تو وہ کس کی ہو گی؟


سوال

اگر کوئی بیٹا والد کے مکان میں ایک منزل بناتا ہے تو وہ منزل اس بیٹے کی ملکیت ہو جاتی ہے یا اس کو اس کی رقم ملے گی؟

جواب

اس مسئلہ کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں:

1- اگر بیٹے نے منزل بنانے سے پہلے یہ صراحت کر دی ہو کہ اس منزل کی تعمیر میں رقم بطورِ قرض لگا رہا ہوں تو ایسی صورت میں اس کو اس کی رقم واپس ملے گی۔

2- اگر بیٹے نے یہ صراحت کر دی ہو کہ میں اپنے لیے یہ جگہ بنا رہا ہوں اور اس میں والد  کی اجازت بھی شامل تھی تو اس صورت میں وہ اس منزل کا مالک ہو گا اور تعمیر پر جو اخراجات ہوئے اس کا مستحق بھی ہوگا۔

3- اگر بیٹے نے کوئی صراحت نہ کی ہو تو  یہ منزل والد کی ہو گی اور اس کو اس کے بدلے کوئی رقم نہ ملے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے