بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اپنے دفاع کے لیے قسم کھانا


سوال

زید ایک کمپنی کا اسسٹنٹ مینیجر ہے، زید کی موجودگی میں 2لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، زید کو کہا جاتا ہے کہ آپ اس کا حساب دیں ، زید تحقیق کے بعد ایک لاکھ کا حساب دے دیتا ہے، باقی ایک لاکھ کا نہیں معلوم کہ کہاں خرچ ہوئے۔ زید نے اپنے استعمال میں بھی نہیں لائے اور نہ ہی چرائے ہیں۔ زید کو کہا جاتا ہے کہ آپ قرآن پاک کی قسم اٹھائیں تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے، کیا زید اپنے دفاع کے لیے قرآن پاک کی قسم کھا سکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر زید اپنے موقف میں سچاہے اور قسم کے بغیر  اس کی بات پر یقین نہ کیا جارہاہو تو قسم اٹھاسکتاہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143901200005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے