بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اپنی لکھی ہوئی کتاب کا معاوضہ حاصل کرنا


سوال

سائنس دان اور ریسیرچرز کتابیں لکھتے ہیں, یہ کتابیں عموماً پبلشرز چھاپتے ہیں برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں۔ کسی بھی کتاب کے سلسلے میں وہ عموماً ایک سال کا عرصہ دیتے ہیں، تاکہ اس کو لکھا جاسکے۔ اس کے بعد سائنس دان وہ کتاب پبلشر کے حوالے کر دیتا ہے. اب وہ کتاب پبلشر کی ملکیت بن جاتی ہے اور پبلشرز دو سال تک اس کا سات فیصد سائنس دان کو دیتے ہیں جتنی بھی کتابیں بکیں گی اس میں سے۔ اس کے بعدکتاب اور اس کا معاوضہ پبلشر کا ہوگا۔ تو کیا سائنس دان کا یہ پیسے لینا جائز ہے اور اس طرح کا معاہدہ بھی جائز ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں سائنس دان اپنی لکھی ہوئی کتاب کس معاہدے کے تحت پبلشر کو دیتا ہے  سوال میں اس کی وضاحت نہیں۔

بہر حال اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  سائنس دان اپنی کتاب ایک متعین رقم کے عوض پبلشر کو بیچ دے اور پھر کچھ عرصے میں ان سے وصول کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے