بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شعبان 1441ھ- 07 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

اپنی اولاد کو صدقہ دینا


سوال

کیا والدہ اپنی بیٹی کو صدقہ دے سکتی ہے؟ اور اس صدقہ کو تمام گھر کے افراد  کی جانب سے نکالا گیا ہے اور بیٹی کا صدقہ بھی اس میں شامل ہے۔

جواب

انسان کا اپنے اہل وعیال یعنی بیوی بچوں پر خرچ بھی شریعت کی حدود کی پاس داری کے ساتھ ہو تو صدقہ کہلاتاہے، لہذامذکورہ صورت میں اگر صدقہ سے مراد نفلی صدقہ ہے تو والدہ کا اپنی ذاتی رقم یا اجتماعی طور پر گھر والوں کی رقم اپنی اولاد میں سے کسی کو دینا جائز ہے، البتہ جس کو صدقہ دیاگیا ہے اس میں اس کی اپنی رقم بھی شامل ہے تو وہ  ذاتی رقم صدقہ نہیں کہلائے گا، ا س لیے کہ وہ رقم خود اس کی اپنی جانب واپس لوٹائی گئی ہے۔

یہ یاد رہے کہ صدقاتِ واجبہ یعنی زکات، فطرانہ، فدیہ، کفارات اپنی اولاد اور ان کی اولاد  یا اپنے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی کو دینا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200903

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے