بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

اپنا حق بتائے بغیر وصول کرنا


سوال

کسی کے اوپر قرض ہو اور وہ ادا نہیں کر رہا ہو  اور جس کا قرض ہے  وہ تھوڑا تھوڑا کرکے وصول کرلے اس کے لین دین سے، اور اس کو پتا بھی نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

اگر مطالبے اور کوشش کے باوجود مقروض قرض ادا نہ کر رہاہو اور اُس کا مال قرض خواہ کے پاس آجائے تو اُسے اپنا حق وصول کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اپنے حق سے زیادہ وصول نہ کر لے ورنہ سخت گناہ گار ہو گا۔ 

 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 95):
"مطلب يعذر بالعمل بمذهب الغير عند الضرورة

(قوله: وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفًا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا؛ فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا: إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق".
الموسوعة الفقهية الكويتية (4 / 153):
"وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدًا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضًا لم يجز؛ لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولاتجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144007200459

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے