بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اولاد کے لیے وظیفہ


سوال

 اولاد کے لیے  کوئی وظیفہ بتادیں، استخارہ بھی کرکے بتادیں۔

جواب

اولاد کے لیے  بکثرت یہ  دعا پڑھیں: ﴿ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمیع الدُّعَاءِ ﴾  [آل عمران: 38]

"استخارہ " کرنے سے اگر آپ کی مراد اولاد ہونے یا نہ ہونے کے متعلق استخارہ کرنا ہے، تو جاننا چاہیے کہ "استخارہ" ایک مسنون عمل ہے، جس  کی حقیقت کسی جائز معاملے میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرنا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں میرے لیے بہتری اور بھلائی رکھی ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرمادے، اور اگر اس معاملے میں خیر اور بھلائی نہیں بلکہ شر اور برائی ہے تو اس معاملے سے مجھے محفوظ رکھے اور میرے لیے خیر مقدر فرمائے۔ استخارے کا مطلب اور حقیقت یہی ہے۔ آج کل استخارے کے نام سے جو دیگر عملیات مشہور ہیں، ان کا مسنون استخارہ سے تعلق نہیں ہے۔ استخارے کا مسنون طریقہ جاننے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں! فقط واللہ اعلم

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AF%D8%B9%D8%A7-2/06-05-2018


فتوی نمبر : 143908200372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں