بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اولاد میں کتنا وقفہ ہو؟


سوال

بچوں میں وقفہ کتنا ہونا چاہیے شرعی لحاظ سے ؟  میری اہلیہ کا کہنا ہے کہ  یہ ایک سال کا ہوجائے اور میری  بھی صحت اچھی ہوجائے اور ہمت پیدا ہوجائے ۔ اس سلسلے میں راہ نمائی فرمائیں !

جواب

شرعی طور پر دو بچوں کے درمیان وقفہ کے متعلق کوئی تحدید ثابت نہیں ہے، شریعت کی نظر میں اولاد کی کثرت پسندیدہ ہے، اور شرعی عذر کے بغیر موانعِ حمل تدابیر اختیار کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔ البتہ اگر عورت کی صحت متحمل نہ تواولاد میں وقفہ کرنا جائز ہے، اور اس کے لیے معالج کی راہ نمائی سے شرعاً جائز اور مناسب تدبیر  اختیار کی جاسکتی ہے ۔لیکن حمل ٹھہر جانے کے بعد صرف مذکورہ عذر کی وجہ سے اسے ساقط نہ کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200964

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے