بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

اولادِ مشرکین کا کیا حکم ہے؟


سوال

اولادِ مشرکین کا کیا حکم ہے جنتی ہیں یا جہنمی؟

جواب

احادیثِ اس بارے میں مختلف ہیں، اسی وجہ سے علماء  کی آراء بھی اس بارے میں مختلف ہیں، بعض علماء نے فرمایا : اگربلوغت کے بعد ان کا مسلمان ہونا اللہ کے علم میں ہوگا تو جنت میں جائیں گے اور اگربلوغت کے بعد ان کاکافرہونا اللہ کے علم میں ہوگا تو وہ جہنم میں جائیں گے۔ البتہ امام نووی رحمہ اللہ  نے اس کوراجح قراردیاہے کہ اولادِ کفار جو بلوغت سے پہلے دنیاسے چل بسے وہ اہلِ جنت میں سے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے تعارضِ ادلہ  کی وجہ سے،  نیز احادیث کی روشنی میں اس بارے میں توقف کیاہے؛  چوں کہ اس پر کسی شرعی حکم کا مدار نہیں ہے، اس لیے سلامتی کی راہ  بھی یہی ہے۔ 

جامعہ کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

’’سوال:

کفار کی فوت شدہ نابالغ اولاد کا جنتی و جہنمی ہونے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:

اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک جنت میں ہوں گے، اس کو امام نووی رحمہ اللہ نے صحیح کہاہے، بعض کے نزدیک اہلِ جنت کے خادم ہوں گے، امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے توقف منقول ہے، اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ بعد بلوغ مسلمان ہونا اللہ کے علم میں ہے تو جنت میں جائیں گے، ورنہ جہنم میں ہوں گے۔فقط  واللہ اعلم

کتبہ: رضاء الحق (3/5/1401)                                                   الجواب صحیح: ولی حسن ٹونکی‘‘

دوسرے فتوے میں ہے:

’’سوال:

غیر مسلموں کے نابالغ بچے اگر فوت ہوجائیں تو قیامت کے دن وہ کس جگہ پر رہیں گے؟

جواب:

اس میں سب سے بہتر جواب وہی ہے جو حدیث سے ثابت ہے:

" عن أبي هریرة رضي الله عنه یقول: سئل النبي صلی الله علیه وسلم عن ذراري المشرکین، فقال: الله أعلم بماکانوا عاملین".

اس لیے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے، البتہ بعض حضرات نے بدلیلِ حدیث:"کل مولود یولد علی الفطرة" ان کو بھی جنتی کہاہے۔

بہرحال یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے نہ جاننے سے کسی حکم شرعی پر عمل نہ ہوسکتاہو، اس لیے ایسی غیر ضروری باتوں میں الجھنا نہیں چاہیے۔فقط واللہ اعلم

کتبہ: محمد عبدالسلام چاٹ گامی (13/2/1393)                                                         الجواب صحیح: احمد الرحمٰن غفرلہ‘‘۔

 

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’آیت{ولاتزر وازرة وزرَ اخریٰ}کے تحت تفسیرمظہری میں لکھاہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتاہے کہ مشرکین وکفار کی اولاد جوبالغ ہونے سے پہلے مرجائیں ان کو عذاب نہ ہوگا؛ کیوں کہ ماں باپ کے کفرسے وہ سزاکے مستحق نہیں ہوں گے"۔(معارف القرآن5/457،ط:مکتبہ معارف القرآن)[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند12/211،ط:دارالاشاعت کراچی] فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے