بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

انگوٹھی پہننے کا حکم


سوال

ایک سے زائد انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ایک انگوٹھی پہننا ثابت ہے، اس سے زیادہ ثابت نہیں، بلکہ فقہاءِ کرام  نے تو عام شخص کے لیے انگوٹھی نہ پہننے کو اولیٰ لکھا ہے،  نیز ایک سے زائد انگوٹھیاں پہننا مردانہ وقار کے بھی خلاف ہے، لہٰذا اس سے احتراز کیا جائے، چاندی کی مقدار بھی ساڑھے چار ماشہ کے اندر اندر ہونی چاہیے۔

"عن أبي ریحانة قال: نهى رسول الله صلی الله علیه وسلم عن عشر: ... ولبوس الخاتم إلا لذي سلطان. رواه أبوداؤد والنسائي". (مشکاة المصابیح، کتاب اللباس، الفصل الثاني، ص:376. ط: قدیمي)

"(وترك التختم اهـ ) وفي البستان عن بعض التابعين: لايتختم إلا ثلاثة: أمير أو كاتب أو أحمق اهـ".  (الدر المختار مع شرحه رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس: 6/361، ط: سعيد)  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144012200902

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں