بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ پراشتہارت کے ذریعے کمانے کا حکم


سوال

اشتہارات کے ذریعے پیسے کمانا درست ہے کہ نہیں؟  اگر نہیں تو کیوں؟ اب تو آن لائن کا دور آنے والا ہے۔ 

جواب

عموماً ویب سائٹس پر جو اشتہارات لگائے جاتے ہیں اُن میں سے  اکثر اشتہارات جان دار کی  تصاویر پر مشتمل ہوتے ہیں، اور جس طرح جان دار کی تصویر بنانا شرعاً منع ہے اسی طرح اُس کی ترویج اور تشہیر بھی ممنوع ہے،  اسی طرح بہت سے اشتہارات دیگر غیر شرعی امور پر مشتمل ہوتے ہیں؛ لہذا اگر مذکورہ طریقہ کار میں اشتہارات کی تشہیر ہوتی ہے تو  یہ  گناہ کے کام میں معاونت ہے؛ اس لیے  ایسی کمائی جائز نہ ہوگی۔

اس کے علاوہ اشتہار دیکھنا کوئی ایسا کام نہیں ہے جس پر اجارہ کے جواز کا فتوی دیاجاسکے، مزید یہ کہ اس میں دھوکا دہی کا پہلو بھی ہے; اس لیے لوگوں کے اشتہارات دیکھنے کے عوض مال وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔  نیز ایک مسلمان کی شان یہ ہونی چاہیے کہ زمان کے تیور دیکھ کر قدم اٹھانے کے بجائے ہر موقع اور ہر قدم پر دین و شریعت کو مقدم رکھے اور ایسے امور سے اجتناب کرے جو شرعاً جائز نہ ہوں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے