بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جمادى الاخرى 1441ھ- 29 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

انشورنس کمپنی میں ملازمت جائز نہیں


سوال

1-  ایک شخص کا ذریعہ معاش ہر کوشش کرنے کے بعد بھی کوئی نہیں بن پا رہا،  انتہائی مجبوری لاحق ہونے کی وجہ سے اگر وہ شخص انشورنس کمپنی میں ملازمت کرتا ہے، جب تک اُس کو مدمقابل کوئی کام نہیں ملتا تو اِس انشورنس کمپنی میں کام کرنا کیسا ہے؟  

2-  انشورنس کمپنی اور تکافل میں سے اگر کوئی بیمہ کرانا چاہے تو ان دونوں میں سے کس میں کروانا چاہیے؟ 

جواب

1-  انشورنس  کئی امور  کی بنا پر شرعی اعتبار سے جائز نہیں اور انشورنس کمپنی میں ملازمت بھی جائز نہیں، اس لیے مذکورہ شخص اگر پہلے سے انشورنس کمپنی میں ملازم نہیں ہے تو اسے انشورنس کمپنی میں ملازمت شروع کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس کے بجائے کسی اور حلال ملازمت کی سنجیدہ تلاش شروع کرے، اگرچہ وہ قدرِ کفایت ہو اور فی الحال اس شخص کے متوقع معیارِ زندگی سے کم تر ہو؛ اس لیے کہ حلال میں برکت ہے، اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔

2-  ہماری تحقیق کے مطابق مختلف مفاسد  کی بنا پر مروجہ تکافل بھی انشورنس کی طرح ناجائز ہے، اس لیے دونوں میں سے کسی کمپنی سے بھی بیمہ کرانا جائز نہیں۔ 

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 403):

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144103200514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے