بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

انتہائی غصے کی نیم جنونی کیفیت میں طلاق کا حکم


سوال

دو میاں بیوی کی شادی کو ہوئے تقریباً دس سال ہو چکے ہیں اور ان کے چار بچے بھی ہیں، ماضی میں میاں بیوی کے درمیان 2 بار رجعی طلاق واقع ہو چکی ہے, (ایک 2013 میں اور دوسری 2016 میں، جن کے بعد دونوں نے آپس میں رجوع کر لیا تھا)۔ ایک دن  دوپہر کو خاوند آفس کی کسی پریشانی میں گھر سے کچھ کاغذات لینے آیا ۔ جب واپس جانے لگا تو پیچھے سے بیوی نے (کسی غلط فہمی کی بنا پر) اس کو کچھ نامناسب الفاظ بول دیے، اور الفاظ بول کر باہر ٹیرس پرجا کر کھڑی ہو گئی۔ خاوند پہلے ہی کسی آفس کی پریشانی میں تھا،  بیوی کے نامناسب الفاظ سن کر اس کو بہت غصہ آگیا،  وہ واپس پلٹ آیا اور غصے میں اپنی بیوی سے پوچھا کہ ایسے الفاظ کس کو کہے ہیں اورکیوں کہے ہیں؟  بیوی نے کہا کہ تمہارے کان بجے ہیں، اس پر خاوند کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ پھربیوی نے کہا کہ ہاں کہا ہے، اور تمہیں ہی کہا ہے۔ اس سے خاوند کے غصے میں مزید اضافہ ہو گیا اور وہ غصے میں آگ بگولا ہو کر اپنی پوری آواز سےگالم گلوچ کرنے لگا۔ جواب میں بیوی بھی شروع ہوگئی۔ اس سے خاوند کا غصہ اور بڑھ گیا اور اس کے گالم گلوچ میں مزید اضافہ ہوگیا۔اس وقت خاوند اپنے گھر کے صحن میں تھا اوربیوی ٹیرس پر تھی، اس کی آواز محلے میں جانے لگی۔خاوند اس کو بار بار اندر آنے کا کہتا رہا، لیکن بیوی اندر نہ آئی اور ادھر سے ہی گالم گلوچ کا جواب دیتی رہی۔اس سے خاوند کا غصہ اور بھی بڑھ گیا، وہ بازو سے پکڑ کر اپنی بیوی کو گھر کے اندر کھینچ لایا اور غصے میں پوچھا کہ نامناسب الفاظ کہے ہیں تو کیوں کہے ہیں؟ اس کی وجہ بتاؤ۔ اتنے میں بیوی بازو چھڑا کر پھر ٹیرس پر جاکھڑی ہوئی اور خاوند کو جواب دینے لگی، باہر مزدور کام کر رہے تھے خاوند کو اس احساس نے کہ مزدور یہ تماشا دیکھ رہے تھے،  مزید بھڑکا دیا،  چنانچہ اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔

اس نے اپنے بھائی کا نام(جو کہ آئی  ۔۔۔ سے شروع ہوتاہے) موبائل سے ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن شدتِ غصہ کی وجہ سے وہ آئی کی بجائے ایف سے ڈھونڈتا رہا اور ناکام رہا۔اس دوران دونوں طرف سے گالم گلوچ کا سلسلہ مزید تقویت پکڑ گیا۔ اس نے خاوند کو مزید بھڑکا دیا۔ خاوند نے بیوی کو کہا کہ وہ ٹیرس چھوڑ کر گھر کے اندر آ جائے،  لیکن بیوی نے کہا کہ میں نے نہیں آنا،  میں سب محلے والوں کو اکٹھا کروں گی اور سب کو یہ تماشا دکھاؤں گی۔ اس سے خاوند کے غصے کو مزید بڑھاوا ملا ۔اس نے پھر اپنی بیوی کے بھائی ( جو ایم اے  ۔۔۔سے شروع ہوتاہے) کا نام تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن شدتِ غصہ کی وجہ سےاس کی سمجھ سے باہر ہوگیا کہ نام کس لفظ سے اور کیسے تلاش کرنا ہے؟  اتنے میں ٹیرس پر کھڑی بیوی نے گالم گلوچ کے تبادلے کے دوران خاوند کو اس کی بہن سے متعلق کوئی بے حد نازیبا بات کہہ ڈالی، اس سے خاوند کا غصہ اپنی انتہائی حدوں کو کراس کر گیا، شدتِ غضب سے اس کا دماغ ماؤف ہو گیا،  جسم کانپنے لگا اور آنکھوں کے سامنے دھندلاہٹ سی آگئی۔ اور خاوند نے غصے سے بے قابو ہو کر بغیر سوچے سمجھے کہ وہ کیا کہنے لگا ہے اور اس کے نفاذ سے کیا ہو گا، اپنی بیوی کو تین بار طلاق کے الفاظ بول دیے۔  کچھ دیر بعد جب وہ کچھ نارمل ہوا تو تب اس کو احساس ہوا کہ اس نے جو الفاظ بولے تھے ان کا کیا مطلب تھا اور ان کے نفاذ سے کیا ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کی اتنےانتہائی شدید غصے کی جکڑ میں آکر غضب کی نیم جنونی کیفیت میں (جس میں اس کے اوسان خطا ہوگئے ، جسم کانپنے لگ گیا اور اور پڑھا لکھا ہونے کے باوجود موبائل میں اپنے بھائی اور اپنی بیوی کے بھائی کا فون نمبر اس لیے تلاش نہ کر سکا کہ اسے پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ ان کے نام کس حرف سے شروع ہوتے ہیں ) دی گئی طلاق واقعہ ہو گئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شدید غصے میں اگر مغلوب تھا اور حواس بحال نہیں تھے تو  تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح بحال ہے۔

رد المحتار(3/ 244)میں ہے:

"سئل نظمًا فيمن طلق زوجته ثلاثًا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظمًا أيضًا بأن الدهش من أقسام الجنون فلايقع ... قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں