بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

امریکہ میں سودی لین دین / مکان کے لیے سودی قرضہ لینا اور اس مکان کا کرایہ حاصل کرنا


سوال

میرا  نکاح 2007ء میں ایک 25 سال سے نیویارک، امریکا میں مقیم پاکستانی نثراد امریکن فیملی میں ہوا۔  ان کےسپانسر کرنے کی وجہ سے2008ء میں مجھے امریکا کا ویزاملا۔میں تقریباً 18ماہ تک امریکا میں رہا۔ اس دوران میری بیوی اور سسرال والوں کا رویہ میرے ساتھ اچھانہ تھا۔

  نیویارک امریکا  کا ہر وہ فرد جو اپنی کمائی میں سے گورنمنٹ کو سارا سال ٹیکس ادا کرتا ہے وہ سال کے ختم ہونے کے بعد اپنا ٹیکس ریٹرن (Tax Return) فائل یعنی جمع کرواتا ہے،  جس کی وجہ سے گورنمنٹ اس فرد کو ٹیکس کی رقم میں سے کچھ رقم واپس کر دیتی ہے۔ میرے سسرال والوں نے سال 2008 ء کے لیے میرا اور میری بیوی کا مشترکہ ٹیکس ریٹرن جمع کروا دیا۔ جس کا مجھے علم نہ تھا۔ ان لوگوں نے میرے جعلی دستخط کیے اور جعل سازی اور دو نمبری کر تےہوئے یہ ٹیکس ریٹرن جمع کروا دیے۔ جس میں میری نوکری اور کمائی کے متعلق جھوٹی اور جعلی معلومات درج کیں۔ میرے تمام کاغذات گرین کارڈ وغیرہ میرے سسرال والوں کے گھر کے پتے  پر آئے تھے۔  ان تمام کاغذات کی تفصیل اور فو ٹو کا پی وغیرہ ان کے پاس مو جود تھی۔ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی یہ ساری کاروائی ان لوگوں نے ایک Accountant کی مدد سےکی جو نیویارک میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا کام کرتاہے۔ ان لوگوں نے ٹیکس ریٹرن کے کاغذات میں ایک مکان کا ذکر کیا۔جومکان Mortgage Loan پر حاصل کیا گیا تھا، جسے عرف عام میں House Loan بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس مکان کی Mortgage Loan میں Interest Rate یعنی شرح سود % 8.125 تھی۔ یہ Loan یعنی قرضہ حاصل کرنے کے لیے میرے سسرال والوں نےمیرے گرین کا رڈ اود دیگر کاغذات کو استعمال کیا۔  نیویارک میں اکثر لوگ قرضہ یا ہاؤس لون وغیرہ اپنے گرین کارڈ پر حاصل کر تے رہتے ہیں۔ مجھے یہ بات معلوم تک نہ تھی کہ میرے گرین کارڈ پر سسرال والوں نے Mortgage Loan حاصل کر لیا ہے۔

اب اس مسئلہ کے متعلق شریعت کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب درکار ہے:

1۔ مسلمانوں کے لیے نیویارک، امریکا میں سودی معاملہ یا لین دین کرنے کا کیا حکم ہے؟  کیا وہ Mortgage Loan یا House Loan وغیرہ کاسودی معاملہ کرتے ہوئے مکان خرید یا بیچ سکتے ہیں؟  مزید یہ کہ اس مکان سے حاصل ہونے والے کرایہ کا کیا حکم ہو گا؟

2۔ امریکن کریڈٹ کارڈ(Credit Card) سے حاصل ہونے والی رقم یا آمدن کاکیا حکم ہو گا؟ کیا پاکستان میں رہتے ہوئےاس رقم کا استعمال کرنا درست ہو گا یا نہیں؟

3۔ اوپر بیان کردہ حالات کی وجہ سےمیں اور میری بیوی فی الحال علیحدہ علیحدہ گھروں میں الگ الگ رہ رہے ہیں۔اور اس وقت ہم دونوں پاکستان میں ہیں۔ ہمارے درمیان لڑائی کی وجہ وہی مکان کی Mortgage Loan ہے۔ جس پر میں راضی نہیں ہوں۔ کیا ہماری صلح کی صورت میں مجھ پر اس سودی معاملہ(Mortgage Loan) کا وبال ہو گا، جب کہ ایسا کر نے میں نہ میں راضی تھا نہ شامل۔ یہ سب جعل سازی سےمجھ سے چوری اور میری لاعلمی میں کیا گیا۔ اور صلح کی صورت میں مکان اور اس کی آمدن کس کی ملکیت ہو گی؟ میری یا میری بیوی کی یا میرے سسرال والوں کی ہو گی۔ اور اس آمدن کا کیا حکم ہو گا؟

4۔ میری بیوی سے لڑائی کی وجہ میری مالی مشکلات بھی ہیں،  کیا اس ساری صورتِ حال میں اپنے سسرال والوں سے Mortgage Loan کی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہوں، جو انہوں نے میرے گرین کارڈ اور کاغذات وغیرہ کو میری مرضی اور اجازت کے بغیر استعمال کرتے ہوئے حاصل کی؟ اور کیا اس رقم کا استعمال کرنا جائز ہو گا؟

5۔ میرے سسرال والوں کے ذرائعِ  آمدن میں Mortgage Loan پر  لیے ہوئے 4 یا 5 مکان امریکا  میں ہیں،  جو کرایہ پر ہیں۔ اور کچھ امریکن کریڈٹ کارڈز کے علاوہ وہاں نیویارک میں Construction Company بھی ہے۔ ان ذرائعِ آمدن کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا میں سسرال والوں سے کسی قر ضے یا ادھار رقم کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟  جس سے میں پاکستان میں رہتے ہوئےکوئی کاروبار شروع کر سکوں۔اور ہم میاں بیوی کے درمیان کوئی صلح کی صورت پیدا ہو سکے۔

جواب

1۔۔  غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمانوں کے لیے سودی لین دین جائز نہیں ہے،  ذاتی مکان خریدنے کے لیے بھی سودی قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔

2۔۔ کریڈٹ کارڈ کا حصول ہی ناجائز ہے، خواہ وہ امریکا  میں کیا جائے یا پاکستان میں؛ کیوں کہ وہ غیر شرعی معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہوتاہے۔

3۔۔ صلح کرنے کی صورت میں آپ پر وبال نہیں ہوگا،  چوں کہ سودی معاملہ آپ نے نہیں کیا ہے،  اس لیے آپ پر اس کا گناہ بھی نہیں ہے، البتہ اگر اس معاملہ کو ختم کرنا آپ کے اختیار میں ہو تو آپ فی الفور  معاہدہ ختم کیجیے۔ واضح رہے کہ مکان کے لیے سودی قرضے کاحصول تو ناجائز ہے، مگر اس مکان سے ہونے والی آمدنی حلال ہے۔

4۔۔  سودی قرضہ  لینا ہی جائز نہیں ہے،  ان کے ذمہ اس معاملہ کو ختم کرکے  توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔

5۔۔  اگر باہمی رضامندی سے وہ دے دیں تو آپ کے لیے ان سے  قرض لینا جائز ہے، لیکن زبردستی اس کے مطالبہ کا آپ کو حق نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے