بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

امریکا جانے والا جدہ ائیر پورٹ پر احرام کے بغیر رکے تو دم لازم ہو گا؟


سوال

اگر کوئی شخص امریکا جارہا ہواور راستہ میں جہاز جدہ ایئر پورٹ پر رکے،  تو کیا بغیر احرام کے جدہ میں جانے سے دم لازم آئے گا؟

جواب

 فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ اگر میقات سے باہر رہنے والا آدمی کسی ایسی جگہ جانے کا ارادہ  کرے جو میقات کے اندر ہو، لیکن حرم سے باہر ہو  یعنی حل میں واقع ہو تو ایسی جگہ کا قصد کرنے کی صورت میں میقات سے گزرتے ہوئے اس پر احرام کی حالت میں ہونا لازم نہیں ہے، بلکہ احرام کے بغیر بھی وہ میقات سے گزر سکتا ہے، احرام کی نیت کرنا اس وقت ضروری ہے جب  حج یا عمرہ کے  ارادے سے یا مکہ یا حرم میں داخل ہونے کے ارادہ سے مواقیتِ خمسہ میں سے کسی میقات یا اس کی محاذات  سے گزرے۔

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ امریکا جانے والا شخص مکہ مکرمہ یا حرم جانے کا قصد نہیں کر رہا ہوتا؛ اس لیے جدہ ائیر پورٹ پر بغیر احرام جانے کی نیت سے کوئی چیز لازم نہیں ہو گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 581):
"(دخل كوفي) أي آفاقي (البستان) أي مكانًا من الحل داخل الميقات (لحاجة) قصدها ولو عند المجاوزة على ما مر، ونية مدة الإقامة ليست بشرط على المذهب (له دخول مكة غير محرم ووقته البستان ولا شيء عليه)".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 582):
"(قوله: له دخول مكة غير محرم) أي إذا أراد دخول البستان لحاجة لا لدخول مكة ثم بدا له دخول مكة لحاجة له دخولها غير محرم كما في شرح ابن الشلبي ومنلا مسكين. قال في الكافي لأن وجوب الإحرام عند الميقات على من يريد دخول مكة وهو لايريد دخولها، وإنما يريد البستان وهو غير مستحق التعظيم فلا يلزمه الإحرام بقصد دخوله. اهـ".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200874

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے