بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

امتحان میں اچھے نمبروں کے لیے وظیفہ


سوال

امتحان میں اچھے نمبروں سےکامیابی کے لیے کوئی وظیفہ بتائیں اور امتحانی سینٹر میں جو ممتحن آیا ہوا ہو ہماری نگرانی کے لیے اُس کا دل میرے لیے نرم ہو جائے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں اور نظر بند کے لیے بھی کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جو میں اپنا پیپر لکھنے کے بعد اُس پیپر پر دم کردوں تاکہ جب میرا پیپر چیک ہو تومیری غلطیاں پیپر چیک کرنے والے کو نظرنہ آئیں، اور ممتحن پر بھی دم کردوں نظربند کے لیے جو امتحانی سینٹر میں آیا ہوا ہو?

جواب

دعا اور ثابت شدہ وظائف کی تاثیر اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن دنیا دار الاسباب ہے، شریعت نے دنیا میں ہمیں رجوع الی اللہ کے ساتھ ساتھ اسباب اور تدبیر اختیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے، اسباب اختیار  کیے بغیر،  محنت سے غافل ہوکر ،محض دعاؤں پر اکتفا کرکے کامیابی کا تصور  منشاءِ شریعت اور نظامِ فطرت کے موافق نہیں ہے،  اگر وظائف پڑھ کر ہی کامیابیاں حاصل کی جاتیں تو انبیاءِ کرام علیہم السلام دین کے لیے اتنی محنت نہ کرتے، دنیا میں رہتے ہوئے انسان اپنی استطاعت کے مطابق محنت کا مکلف ہے، تاہم صرف اپنی محنت پر بھروسہ کرنا بھی شرعاً غلط ہے، حتی الوسع محنت کے ساتھ ساتھ خوب دعاؤں کا اہتمام انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ پاؤ بھر محنت ہو تو من بھر دعا ہو۔

بہرحال اسباق کی تیاری کے بغیر، اور محنت سے غافل ہوکر محض وظیفے کے زور پر کامیابی کا تصور منشاءِ شریعت کے خلاف اور بے وقوفی ہے، نیز امتحان میں نقل کرنا کئی گناہوں کا مجموعہ ہے، اور ممتحن اگر امتحان میں نقل کرائے تو وہ خود خیانت کا مرتکب ہوگا، اور پرچے میں غلطی کرکے اسے چھپانے کی سعی و فکر کرنا، مثبت سوچ نہیں ہے، نہ ہی ایسا کوئی وظیفہ ہے؛ لہذا اول ان سب بُرے خیالات اور خوش فہمیوں کو ذہن سے جھڑک دیں، اور خوب دل لگا کر محنت کریں، اور پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے خوب مانگیں،  دعا سے بڑھ کر کوئی وظیفہ مؤثر اور طاقت ور نہیں ہے،اس کے ساتھ :

۱۔’’یانَاصِرُ ‘‘ہرنمازکے بعداکیس مرتبہ پڑھیں۔

۲۔روزانہ فجر کی نمازکے بعد’’یاعلیم‘‘ 150مرتبہ پڑھ لیاکریں،اورامتحان کے روزاس کی کثرت کریں۔(ملفوظات اشرفیہ)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200268

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں