بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

امام فرض نماز کے بعد دعا کرے یا سنتوں کے بعد؟


سوال

امام دعا فرض نماز کے بعدکرے یا سنت پڑھنے کے بعد؟ اگر لازم نہ سمجھے. 

جواب

امام کو فرض نماز کے بعد دعا کرلینی چاہیے، سنتوں کے بعد اجتماعی طور پر دعا کا اہتمام والتزام کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے بعد سنت اور نفل نماز الگ الگ ادا کی جاتی ہے  ، اور الگ الگ سنت اور نفل پڑھنے کے بعد  سب کا دوبارہ  جمع ہوکر دعا مانگنا  نبی کریم ﷺ، صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور سلفِ صالحین سے ثابت  نہیں ہے، بلکہ سلفِ صالحین  کا طریقہ یہی رہا ہے کہ فرض نماز کے بعد  دعا بھی امام اور مقتدی سب مل کر اجتماعی طور پر کرتے تھے، اور سنتیں اور نفلیں الگ الگ پڑھا کرتے تھے تو دعا بھی ہر ایک الگ الگ  کیا کرتا  تھا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ فرض نماز  کے بعد  تمام لوگ سنن اور نوافل ادا کرنے گھر چلے جاتےاور پھر دوبارہ  گھر سے مسجد میں دعا کرنے کے لیے  جمع ہوتے، بلکہ اگر نبی کریم ﷺ کو کبھی  کبھار کسی مصلحت یا ضرورت کی وجہ سے مسجد میں سنن ونوافل ادا کرنے کا اتفاق ہوا تب بھی آپ ﷺ نے مقتدیوں کے ساتھ مل کر دعا نہیں فرمائی۔آج کل بعض علاقوں میں سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کا  عملاً  التزام ہے، اس لیے اس کو ترک کردینا ضروری ہے۔

مشکاۃ  المصابیح   میں ہے:

"وعن كعب بن عجرة قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم أتى مسجد بني عبدالأشهل فصلى فيه المغرب فلما قضوا صلاتهم رآهم يسبحون بعدها فقال: «هذه صلاة البيوت». رواه أبو داود وفي رواية الترمذي والنسائي قام ناس يتنفلون فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «عليكم بهذه الصلاة في البيوت». 

وعن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يطيل القراءة في الركعتين بعد المغرب حتى يتفرق أهل المسجد. رواه أبو داود". (1/105، باب السنن وفضائلھا، ط: قدیمی)

 اعلاء السنن (۲۰۵/۳):

" ورحم اﷲ طائفة من المبتدعة في بعض أقطار الهند حیث واظبوا علی أن الإمام ومن معه یقومون بعد المکتوبة بعد قرائتهم اللهم أنت السلام ومنک السلام الخ ثم إذا فرغوا من فعل السنن والنوافل یدعوالإمام عقب الفاتحة جهراً بدعاء مرةً ثانيةً والمقتدون یؤمنون علی ذلک وقدجری العمل منهم بذلک علی سبیل الالتزام والدوام حتی أن بعض العوام اعتقدوا أن الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الإمام والمأمومین ضروري واجب حتی أنهم إذا وجدوا من الإمام تاخیراً لأجل اشتغاله بطویل السنن والنوافل اعترضوا علیه قائلین: إنا منتظرون للدعاء ثانیاً وهو یطیل صلاته وحتی أن متولي المساجد یجبرون الإمام الموظف علی ترویج هذا الدعاء المذکور بعد السنن والنوافل علی سبیل الالتزام، ومن لم یرض بذلک یعزلونه عن الإمامة ویطعنونه ولایصلون خلف من لایصنع بمثل صنیعهم، وأیم اﷲ! أن هذا أمر محدث في الدین… وأیضاً ففي ذلک من الحرج ما لایخفی وأیضاً فقد مرّ أن المندوب ینقلب مکروهاً إذا رفع عن رتبته لأن التیمن مستحب في کل شيء من أمور العبادات لکن لماخشی ابن مسعود أن یعتقدوا وجوبه أشار إلی کراهته.فکیف بمن أصرّ علی بدعة أومنکر؟… کان ذلک بدعة في الدین محرمة".فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144012200675

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے