بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

امام صاحب نے عصر کی نماز سجدہ سہو کیے بغیر پانچ رکعت پڑھادی، نماز کا کیا حکم ہوگا؟


سوال

 اگرامام صاحب عصر کی نماز 5 رکعات پڑھا دیں بنا سجدہ سہوہ کے، تو کیانماز ہو جاۓ گی؟ اور بعد میں شامل ہونے والے مقتدیوں کے بارے میں کیا حکم ہے?

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر امام صاحب نے عصر کی نماز میں چوتھی رکعت میں قعدہ اخیرہ میں بیٹھنے کے بعد پانچ رکعت پڑھادیں اور آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو فرض ادا ہوجانے کے باوجود نماز میں نقص رہ جانے اور  سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے ان پر اور ان کی اقتدا میں پانچ رکعت پڑھنے والے مقتدیوں پر اس نماز کا لوٹانا واجب تھا، (اس نماز کا وقت گزرنے کے بعد  اعادہ مستحب ہوگا۔)  اس صورت میں جو لوگ پہلی رکعت گزرنے کے بعد امام کےساتھ نماز میں شامل ہوئے تھے ان کی نماز کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ لوگ بھی امام کی اقتدا  میں کھڑے ہوگئے تو کھڑے ہوتے ہی ان کی نماز فاسد ہوگئی، ان پر لازم تھا کہ وہ بیٹھے رہتے اور امام کے لوٹنے کا انتظار کرتے اور امام کے سلام پھیر لینے کے بعد بقیہ نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوتے۔

لیکن اگر امام صاحب نے چوتھی رکعت میں سرے سے قعدہ اخیرہ کیے بغیر ہی پانچ رکعت پڑھادیں تو  پانچویں رکعت کا سجدہ کرتے ہی امام کی نماز نفل بن گئی، اور امام کے ساتھ تمام مقتدیوں کی نماز نفل بن گئی، اس لیے اس صورت میں امام صاحب اور تمام مقتدیوں ( بشمول پہلی رکعت کے بعد آکر شامل ہونے والے) پر لازم ہے کہ اپنی اس فرض نماز کو دوبارہ نئے سرے سے  پڑھیں؛ کیوں کہ فرض (یعنی قعدہ اخیرہ) چھوٹنے کی وجہ سے کسی کی بھی فرض نماز سرے سے ادا ہی نہیں ہوئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 599):

" ولو قام إمامه لخامسة فتابعه، إن بعد القعود تفسد وإلا لا، حتى يقيد الخامسة بسجدة.

 (قوله: إن بعد القعود) أي قعود الإمام القعدة الأخيرة (قوله: تفسد) أي صلاة المسبوق؛ لأنه اقتداء في موضع الانفراد ولأن اقتداء المسبوق بغيره مفسد، كما مر (قوله: وإلا) أي وإن لم يقعد وتابعه المسبوق لاتفسد صلاته؛ لأن ما قام إليه الإمام على شرف الرفض؛ ولعدم تمام الصلاة، فإن قيدها بسجدة انقلبت صلاته نفلاً، فإن ضم إليها سادسةً ينبغي للمسبوق أن يتابعه، ثم يقضي ما سبق به، وتكون له نافلة كالإمام، ولا قضاء عليه لو أفسده؛ لأنه لم يشرع فيه قصداً، رحمتي".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 12):

"وأربعة لايتبع فيها: زيادة تكبير عيد، أو جنازة، وركن، وقيام لخامسة.

 (قوله: وأربعة لايتبع) أي إذا فعلها الإمام لايتبعه فيها القوم. والأصل في هذا النوع أنه ليس له أن يتابعه في البدعة والمنسوخ وما لا تعلق له بالصلاة، شرح المنية. ... (قوله: وقيام لخامسة) داخل تحت قوله: وركن، تأمل. قال في شرح المنية: ثم في القيام إلى الخامسة إن كان قعد على الرابعة وينتظره المقتدي قاعداً، فإن سلم من غير إعادة التشهد سلم المقتدي معه، وإن قيد الخامسة بسجدة سلم المقتدي وحده؛ وإن كان لم يقعد على الرابعة. فإن عاد تابعه المقتدي، وإن قيد الخامسة فسدت صلاتهم جميعاً، ولاينفع المقتدي تشهده وسلامه وحده. اهـ". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے