بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

الکوحل ملا سینی ٹائزر استعمال کرنا


سوال

صحیح مسلم حدیث : 5141

"حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ، فَنَهَاهُ أَوْ كَرِهَ أَنْ يَصْنَعَهَا، فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ".

حضرت طارق بن سوید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب ( بنانے ) کےمتعلق سوال کیا ، آپ نے اس سے منع فرمایا یا اس کے بنانے کو نا پسند فرمایا ، انہوں نےکہا: میں اس کو دوا کے لیے بناتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دوا نہیں ہے ، بلکہ خود بیماری ہے ۔

سوال: کیا اس حدیث کی روشنی میں وہ ادویات جن میں الکحل شامل ہو ان کا استعمال درست ہے؟

کیا اس حدیث کی روشنی میں ہاتھ صاف کرنے کے لیے مستعمل ہینڈ سینیٹائیزر (جو کہ الکحل سے تیار شدہ ہوتا ہے) اس کے استعمال کی اجازت ہے؟

قرآن و سنت صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں فتویٰ عطا فرما دیجیے!

جواب

سوال میں مذکور حدیث میں ’’خَمْر‘‘ (شراب) بنانے کی ممانعت ہے، خواہ وہ دوا کے طور پر ہو، اور آج بھی حکم یہی ہے کہ بطورِ دوا شراب بنانا حرام ہے۔ البتہ ہر نشہ آور مشروب یا ہر الکوحل کو عربی زبان اور شرعی اصطلاح میں ’’خَمْر‘‘ (شراب) نہیں کہتے،  بلکہ شراب سے مراد وہ خاص مشروب ہے جو انگور، کھجور یا منقی سے کشیدہ کیا گیا ہو۔ اور موجودہ دور میں دواؤں اور دیگر اشیاء میں جو الکوحل استعمال کیا جاتاہے بنیادی طور پر وہ دو حیثیتوں کا حامل  ہے:

1- انگور، کھجور، منقی سے بنی الکحل۔

2- دیگر پھلوں، اناج، لکڑی یا کیمیکل سے بنی الکحل۔

پس جو  الکوحل انگور، کھجور  کی شراب سے حاصل کی جائے وہ الکوحل  نہ صرف حرام  ہے، بلکہ نجس بھی ہے اور دوسری مائعات وغیرہ کو بھی نجس کردیتی ہے،  اس لیے کہ  اس قسم کی الکوحل شراب ( خمر) کا جزء ہوتی ہے، یعنی اس کا ماخذ شراب ہے اور شراب  میں دونوں عیب ( حرام و نجس ہونا)  پائے جاتے ہیں، لہذا جو حکم اصل  یعنی شراب ( خمر) کا حکم ہوگا، وہی حکم اس شراب کے ہر ہر جز کا ہوگا،  یعنی ہاتھ، کپڑے پر لگنے کی صورت میں ناپاک کردے گی اور اس کا پینا حرام ہوگا چاہے وہ نشہ آور ہو یا نہ ہو۔

جو الکوحل انگور، کھجور کے علاوہ کسی دوسری شے سے حاصل کی جائے (مثلاً گنے کے شیرے Molasses سے تو اس کا پینا نشہ کی وجہ سے حرام رہے گا، البتہ وہ نجس شمار نہیں ہوگی، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کا ماخذ  انگور، کھجور کے علاوہ ہے،  اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں  خمر کی تعیین  کر کے اسے حرام اور  رجس (نجس)  قرار دیا ہے، اور خمر انگور اور کھجور کی شراب کو کہتے ہیں۔ پس جو  الکوحل مصنوعی طریقہ سے یا انگور و کھجور کے علاوہ سے  بنائی جاتی ہے اس کا پینا نشہ آور ہونے کی صورت میں تو  حرام ہو گا،  تاہم  اس کی معمولی مقدار نشہ آور نہ ہونے کی وجہ سے اتنی معمولی مقدار  ناپاک نہیں کہلائے گی، بلکہ پاک باقی رہے گی۔

موجودہ دور میں جو الکوحل پرفیومز، ہینڈ سیناٹائزر (ہاتھ کے جراثیم مارنے کے لیے) استعمال ہوتی ہے، وہ نجس نہیں بلکہ پاک ہے،  بلکہ  اس قسم کی  الکوحل   پینے کے قابل بھی نہیں ہوتی اور پینے کی صورت میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔

لہذا انگور،  اور کھجور کے علاوہ  ہر قسم کی الکوحل پاک ہے، اس کے خارجی استعمال سے ہاتھ، کپڑے وغیرہ  ناپاک نہیں ہوتے۔

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع". (كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200788

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں