بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اللہ سے عذاب مانگنا نادانی ہے


سوال

اللہ رب العزت سے عذاب مانگنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا معمول اللہ سے عافیت مانگنے کا رہا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اللہ سے عافیت طلب کرنے کی تعلیم دی ہے، جیسا ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی بات بتائیں جس کا میں اللہ سے سوال کروں؟ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کریں۔ پھر  کچھ روز بعد یہی سوال پھر کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اے عباس، اے اللہ کے رسول کے چچا! اللہ سے دنیا و آخرت کے معاملہ میں عافیت مانگا کریں۔

' وروى الترمذي عن العباس بن عبد المطلب قال: قلت: يا رسول الله؛ علمني شيئاً أسأله الله عز وجل، قال: سل الله العافية، فمكثت أياماً ثم جئت فقلت: يا رسول الله علمني شيئاً أسأله الله، فقال لي: يا عباس يا عم رسول الله: سل الله العافية في الدنيا والآخرة. وصححه الترمذي والألباني أيضاً. قال في تحفة الأحوذي شرح الترمذي: في أمره صلى الله عليه وسلم للعباس بالدعاء بالعافية بعد تكرير العباس سؤاله بأن يعلمه شيئاً يسأل الله به، دليل جلي بأن الدعاء بالعافية لا يساويه شيء من الأدعية، ولا يقوم مقامه شيء من الكلام الذي يدعى به ذو الجلال والإكرام. انتهى. وقد كان صلى الله عليه وسلم يسأل الله دائماً العافية، فعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدع هؤلاء الدعوات حين يمسي وحين يصبح: اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، اللهم استر عورتي، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي، وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي. قال: يعني الخسف... الحديث رواه أحمد وأبوداود وغيرهما'۔

حدیث شریف سے معلوم ہواکہ اپنے اوپر عذاب مانگنا نادانی ہے، اور کون اتنا جرأت مند ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خود کو متحمل سمجھے!  البتہ کن الفاظ سے عذاب مانگنا ثابت ہوتا ہے، کن سے نہیں! یہ فیصلہ الفاظ دیکھ کر کیا جاسکتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201429

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے