بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

الفاظِ کفریہ زبان سے نکلنے کے بعد تجدیدِ نکاح کا طریقہ


سوال

کفریہ الفاظ بولنے سے جو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اس کے بعد تجدیدِ  نکاح کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

کفریہ الفاظ زبان سے نکلنے کی صورت میں سب سے پہلے ان الفاظ پر توبہ کرنی چاہیے اور دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدیدِ ایمان کرنی چاہیے، اگر قصد و ارادے سے کفریہ بات نکلی ہو یا اس کے مطابق عقیدہ اختیار کرلیا تو  تجدیدِ  ایمان کے وقت اس کفریہ عقیدہ سے براءت بھی کرنی چاہیے، پھر تجدیدِ نکاح کرنا چاہیے، تجدیدِ نکاح کاطریقہ یہ ہے:  دومرد گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کا ایجاب وقبول کرلیا جائے،  مثلاً: بیوی کہے کہ: میں نے  اتنے مہر کے بدلہ اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیا اورشوہر کہے کہ میں نے قبول کیا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں