بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 11 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اقامت بیٹھ کر کہنا


سوال

 بیٹھ کراقامت کرناکیسا ہے؟

جواب

جماعت کے لیے تندرست آدمی کا  بیٹھ کر اقامت دینا مکروہ ہے، اگرکوئی تن درست شخص موجود ہو تو  معذور شخص کو اقامت نہیں کہنی چاہیے، تاہم اگر کوئی دوسرا شخص موجود نہ ہو تو معذور کے لیے بیٹھ کر اقامت کہنے کی اجازت ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 54):
"ويكره الأذان قاعداً وإن أذن لنفسه قاعداً فلا بأس به، والمسافر إذا أذن راكباً لايكره وينزل للإقامة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة وإن لم ينزل وأقام أجزأه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 388):
"(والإقامة كالأذان) فيما مر (لكن هي) أي الإقامة وكذا الإمامة (أفضل منه)، فتح". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201463

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے