بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

اطلبوالعلم من المھد الی اللحد


سوال

" اطلبوا العلم من المهد إلی اللحد"کی تحقیق مطلوب ہے!

جواب

" اطلبوالعلم من المهد إلی اللحد"یہ جملہ زبان زد عام ہے، اور اکثر علم کی اہمیت واضح کرنے کے لیے نقل کیا جاتا ہے اور بعض حضرات اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرکے اسےبطورِ حدیث نقل کرتے ہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ جملہ حدیث نہیں ہے، اسے حدیث کے طور پر پیش کرنا جائز نہیں، یہ اسلاف میں سے کسی کا قول ہے جو نقل ہوتا چلاآرہاہے، بعض حضرات نے اس کی نسبت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف کی ہے، لیکن یہ بھی درست نہیں ہے۔

معروف محققِ حدیث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

  " طلب العلم من المهد إلى اللحد" ويحكى أيضاً بصيغة: "اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد": ليس بحديث نبوي، وإنما هو من كلام النّاس، فلا يجوز إضافته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يتناقله بعضهم ... وهذا الحديث الموضوع: "اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد" مشتهر على الألسنة كثير، ومن العجب أن الكتب المؤلفة في " الأحاديث المنتشرة" لم تذكره". ( قيمة الزمن عند العلماء ص 29)

وهذا نص ما ذكره ابن مفلح في الآداب الشرعية:
" قَالَ صَالِحٌ: رَأَى رَجُلٌ مَعَ أَبِي مِحْبَرَةً، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ هَذَا الْمَبْلَغَ وَأَنْتَ إمَامُ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: مَعِي الْمِحْبَرَةُ إلَى الْمَقْبَرَةِ .
ولا يصح عن الإمام أحمد أنه قال: « اطلبوالعلم من المهد إلى اللحد».
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201813

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے