بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

اشراق چاشت و اوابین کی نماز کی کتنی رکعات ہیں؟


سوال

نماز اشراق ،نماز چاشت اور نماز اوابین کون سی ہیں؟ اور تعداد کیا ہے؟

جواب

1۔ اشراق کی نماز طلوع آفتاب کے تقریباً بارہ منٹ بعد کم از کم دو رکعت ہیں. جیسا کہ  حدیث شریف میں آتا ہے:

سنن الترمذي ت بشار (1/ 727):

"عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس، ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تامة تامة تامة".

یعنی جو شخص فجر کی نماز جماعت سے ادا کرے پھر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے، پھر اس کے بعد دو رکعت پڑھے تو  اس کو  کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔

2۔ چاشت کی نماز کم از کم دو رکعت ہے اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات ہیں جب کہ افضل اور اوسط آٹھ رکعات ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 22):

"(و) ندب (أربع فصاعداً في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال، ووقتها المختار بعد ربع النهار. وفي المنية: أقلها ركعتان وأكثرها اثني عشر، وأوسطها ثمان وهو أفضلها، كما في الذخائر الأشرفية؛ لثبوته بفعله وقوله عليه الصلاة والسلام".

3۔ مغرب کی نماز کے بعد اوابین کےنام سے جو نوافل پڑھی جاتی ہیں وہ چھ رکعات ہیں، مفتی بہ قول کے مطابق یہ چھ رکعات مغرب کے بعد کی دو رکعات سنتِ مؤکدہ  کے علاوہ ہیں۔ البتہ بعض فقہاء  فرماتے ہیں کہ سنتِ مؤکدہ کو ملا کر چھ رکعات ادا کرنے سے بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں