بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

اسکول کے طلبہ سے پانی گرم کرنے کے لیے لکڑی منگوانا


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک سرکاری ہائیرسیکنڈری سکول ہے، وہاں کے ٹیچرز حضرات سکول کے  بچوں سے ایک ایک لکڑی منگواتے ہیں اور پھر ان لکڑیوں سے پانی گرم کرکے وضو کرکے نماز پڑھتے ہیں، کیا یہ عمل شریعت کی رو سے درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں لکڑیاں لانے والے طلبہ بالغ ہوں، اور بغیر کسی جبر و اکراہ کے، محض ترغیب دینے پر  اپنی خوشی سے ایسی لکڑیاں لاکر  اپنے اساتذہ کو دیتے ہوں جو ان کی مملوکہ  ہوں، خواہ والدین نے دی ہوں یا جنگل سے کاٹ کر لائے ہوں، یا اپنے پیسے سے خرید کر لائے ہوں،  اور نہ لانے والے طلبہ کی سرزنش نہ کی جاتی ہو   تو ایسی صورت میں حاصل کردہ لکڑیوں کو جلا کر پانی گرم کرکے اس سے اساتذہ کے لیے وضو کرنا جائز ہوگا،  بصورتِ دیگر جائز نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے