بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

اسٹوڈنٹ اکاؤنٹ کھلوانا


سوال

کسی بھی بنک میں سٹوڈنٹ اکاؤنٹ کھلوانا کیسا ہے؟

جواب

اگراکاؤنٹ کھلوانے کی واقعی ضرورت ہوتوکسی بھی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے،اورکرنٹ اکاؤنٹ میں  رقم رکھوانا جائز ہے، تاہم سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں، اگرچہ سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں نیت یہ ہو کہ سود کی رقم نہیں لے گا، صرف اصل رقم لے گا، کیوں کہ جس طرح سود حرام ہے، سودی معاہدہ کرنا بھی حرام  ہے. لہذا اسٹوڈنٹ اکاؤنٹ کھلواتے ہوئے بھی سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہ ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا بوقتِ ضرورت درست ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200819

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے