بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینک سے قرضہ لینے کا حکم


سوال

میں مکان کی تعمیر کے لیے قرض لیتا چاہتا ہوں، کون سا اسلامی بینک قرض لیے جانے کا مجاز ہے؟ میزان بینک یا بینک اسلامی یا کوئی اور؟

جواب

ہماری تحقیق کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں میں سے کوئی اسلامی بینک بھی مکمل طور پر اسلامی نہیں ہے،  بلکہ کچھ نہ کچھ سقم ہر بینک کے معاملات میں باقی رہ جاتا ہے؛  اس لیے کسی بینک سے بھی قرضہ لینے کی صورت میں سود کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے گو وہ کسی دوسرے نام سے کیا جاتا ہو، اس لیے کسی بینک سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے، لہذا اگر قرض لینا ہی ہو تو بینک کے علاوہ کسی اور  سے غیر سودی قرضہ حاصل کر لیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200572

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے