بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

مسلم کمرشل بینک کی شرعی حیثیت


سوال

 مسلم کمرشل بینک میں اسلامی بینکاری کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مروجہ اسلامی اور سودی بینکوں میں کوئی فرق نہیں ہے، جو حکم سودی بینکوں کا ہے، وہی حکم مروجہ اسلامی بینکوں کا بھی ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بینک یا کسی بھی روایتی بینک میں اسلامی بینکاری کے عنوان سے بینکاری کا جو کام ہورہا ہے، شرعاً وہ درست اور جائز نہیں ہے۔

وفي الدر المختار للحصکفي:

"«وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام ... الخ»".

وفي رد المحتار لابن عابدين:

"«(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ... الخ»". (کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة، فصل في القرض، مطلب کل قرض جرّ نفعًا حرام، ج: 5، ص: 166، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے