بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینکاری


سوال

یہ جو آج کل بنکوں میں اسلامک بینکنگ سسٹم متعارف ہوا ہے، جس میں سیونگ اکاؤنٹ کی رقم سے بزنس کیا جاتا ہے ور اس کا نفع دیا جا تا ہے اور کہنا ہے کہ اس نفع اور نقصان دونوں دیے جاتے ہیں، کیا یہ جائز ہے، خصوصی طور پر میزان بینک کا سیونگ اکاؤنٹ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جمہور اہلِ علم کی رائے کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر اس پر نفع حاصل کرنا درست نہیں ہے، بلکہ سود میں شامل ہے، لہٰذا مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی سیونگ اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرکے اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار میں ہے:

"الربا هو فضل خال عن عوض مشروط لأحد المتعاقدين في المعاوضة". (ج:5، ص: 170، ط: سعيد)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"هو في الشرع: عبارة عن فضل ماه لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال". (ج:3، ص: 117، ط: رشيدية) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144105200047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے