بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

اسلامک چائلڈ فنڈ میں جمع شدہ رقم پر زکاۃ


سوال

لندن میں ایک "اسلامک چائلڈ فنڈ" ہے، جس میں حکومت اور بچے کے والدین پیسے ڈالتے ہیں،جب بچہ 18 سال کی عمر کا ہو جاتا ہے تو پھر وہ اس پیسے کو استعمال کرسکتا ہے،اس بچے کے علاوہ کوئی بھی اس کو استعمال نہیں کر سکتا ، ہاں اگر بچہ 18 سال کی عمر سے پہلے مرجائے تو پھر یہ مال اس کے والدین کو ملے گا ۔ورنہ اس مال کو استعمال کرنے کا حق صرف بچے کو ہے جب وہ 18 سال کا ہوجائے ۔پوچھنا یہ ہے کہ اس مال میں زکاۃ والدین پر لازم ہوگی جب تک بچہ نابالغ ہے ؟یا والدین پر اس کی کوئی زکاۃ نہیں ہے؟

جواب

جومال بچے کے لیے مختص فنڈ میں جمع کرادیا جائے اس طورپر کہ والدین اسے استعمال کرنے کے مجاز نہ ہو ں تو بچے کے بالغ ہونے تک  اس رقم پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی ۔ اس لیے  کہ والدین کی ملکیت سے رقم نکل گئی اور بچہ مکلف نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143907200114

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے