بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اسرائیلی روایات کا حکم


سوال

اسرائیلی روایات کے متعلق ہمارے علماء(علمائے دیوبند) فرماتے ہیں کہ نہ ان روایات کی تصدیق کرنی ہے اور نہ تکذیب کرنی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اسرائیلی روایات کیا ہے یہ کہاں سے آئی ہے اور ان کی کیا پہچان ہے برائے مہربانی تفصیلی جواب عطا فرمائے۔

جواب

مطلقاً اسرائیلی روایات سے مراد وہ روایات ہیں جو بنی اسرائیل (یہود و نصاریٰ) کی کتابوں سے نقل کی گئی ہوں۔ 

البتہ ہمارے عرف میں جس واقعے کا ذکر یا اس کے کسی حصے کا ذکر قرآنِ مجید  میں یا رسول اللہ ﷺ سے منقول ہو اسے اسرائیلی روایت نہیں کہاجاتا، بلکہ وہ ہمارے دینی مآخذ شمار ہوتے ہیں۔ جب کہ وہ روایات جن کا ذکر بعینہ یا ان کے کسی حصے کا ذکر قرآنِ مجید میں یا رسول اللہ ﷺ سے منقول نہ ہو، انہیں اسرائیلی روایت کہا جاتاہے۔

چوں کہ یہود و نصاریٰ  اپنی کتابوں میں تحریف کرچکے ہیں؛ اس لیے اُن روایات پر مکمل اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے جو صرف ان کی کتابوں میں موجود ہوں، چنانچہ ان روایات کا حکم یہ ہے کہ اگر ان میں کوئی ایسی بات ہو جس کی تصدیق ہمیں قرآن و حدیث سے ملتی ہو تو ہم ایسی روایات کی تصدیق کریں گے اور ان روایات کا بیان کرنا جائز بھی ہوگا، اور جن میں ایسی باتیں ہوں جس کی تصدیق تو ہمیں قرآن و حدیث میں نہ ملتی ہو، لیکن وہ قرآن و حدیث (یعنی شریعت) کے کسی مسلمہ اصول سے ٹکراتی بھی نہ ہوں تو ایسی روایات کا حکم یہ ہے کہ ہم نہ تو ان روایات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی تکذیب کریں گے، البتہ ان روایات کو بیان کرنے کی گنجائش ہے، اور جن روایات میں ایسی باتیں ہوں جو قرآن و حدیث کے مخالف ہوں تو  ہم ان کی تکذیب کریں گے، اور ایسی روایات کو بیان کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

ان روایات کی پہچان محدثینِ کرام اور ائمہ جرح و تعدیل کا کام ہے، جو لوگ سندِ حدیث کے فن میں مہارت رکھتے ہیں وہی پہچان کر بتائیں گے کہ کون سے روایت اسرائیلیات میں سے ہیں، عوام کے لیے روایات میں سے اسرائیلی روایات کو پہچاننا ممکن نہیں ہے، اس لیے عوام کو اس بارے میں اس فن کے ماہر اہلِ علم سے ہی پوچھنا چاہیے۔ کیوں کہ بسا اوقات ایک ہی واقعہ کتبِ احادیث میں کسی صحابی سے بھی منقول ہوتاہے، لیکن پھر بھی وہ اسرائیلی روایت ہوتاہے، اور بعض مرتبہ کسی واقعے کا کوئی ایک جز یا کوئی حصہ اسرائیلی روایت ہوتاہے، جب کہ اسی واقعے کا کوئی ایک حصہ حدیثِ رسول اللہ ﷺ ہوتاہے۔

تفسير ابن كثير ط العلمية (1/ 10):
"ولهذا غالب ما يرويه إسماعيل بن عبد الرحمن السدي الكبير في تفسيره عن هذين الرجلين ابن مسعود وابن عباس، ولكن في بعض الأحيان ينقل عنهم ما يحكونه من أقاويل أهل الكتاب التي أباحها رسول الله صلى الله عليه وسلم حيث قال: «بلغوا عني ولو آيةً، وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج، ومن كذب علي متعمدًا فليتبوأ مقعده من النار». رواه البخاري  عن عبد الله بن عمرو، لهذا كان عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قد أصاب يوم اليرموك زاملتين  من كتب أهل الكتاب، فكان يحدث منهما بما فهمه من هذا الحديث من الإذن في ذلك.
ولكن هذه الأحاديث الإسرائيلية تذكر للاستشهاد لا للاعتضاد؛ فإنها على ثلاثة أقسام: أحدها ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق، فذاك صحيح. والثاني ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه. والثالث ما هو مسكوت عنه لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل، فلانؤمن به ولانكذبه، ويجوز حكايته لما تقدم، وغالب ذلك مما لا فائدة فيه تعود إلى أمر ديني. ولهذا يختلف علماء أهل الكتاب في هذا كثيرًا.

ويأتي عن المفسرين خلاف بسبب ذلك، كما يذكرون في مثل هذا أسماء أصحاب الكهف، ولون كلبهم، وعددهم، وعصا موسى من أي الشجر كانت، وأسماء الطيور التي أحياها الله لإبراهيم، وتعيين البعض الذي ضرب به القتيل من البقرة، ونوع الشجرة التي كلم الله منها موسى، إلى غير ذلك مما أبهمه الله تعالى في القرآن مما لا فائدة في تعيينه تعود على المكلفين في دينهم ولا دنياهم. ولكن نقل الخلاف عنهم في ذلك جائز كما قال تعالى: {سيقولون ثلاثة رابعهم كلبهم، ويقولون خمسة سادسهم كلبهم رجمًا بالغيب، ويقولون سبعة وثامنهم كلبهم، قل ربي أعلم بعدتهم ما يعلمهم إلا قليل فلا تمار فيهم إلا مراءً ظاهرًا ولاتستفت فيهم منهم أحدًا} [الكهف: 22] فقد اشتملت هذه الآية الكريمة على الأدب في هذا المقام وتعليم ما ينبغي في مثل هذا، فإنه تعالى أخبر عنهم بثلاثة أقوال، ضعف القولين الأولين، وسكت عن الثالث، فدل على صحته إذ لو كان باطلًا لرده كما ردهما، ثم أرشد على أن الاطلاع على عدتهم لا طائل تحته، فقال في مثل هذا: {قل ربي أعلم بعدتهم} فإنه ما يعلم ذلك إلا قليل من الناس ممن أطلعه الله عليه، فلهذا قال: {فلاتمار فيهم إلا مراءً ظاهرًا} أي لاتجهد نفسك فيما لا طائل تحته ولاتسألهم عن ذلك فإنهم لايعلمون من ذلك إلا رجم الغيب.

فهذا أحسن ما يكون في حكاية الخلاف: أن تستوعب الأقوال في ذلك المقام، وأن تنبه على الصحيح منها، وتبطل الباطل، وتذكر فائدة الخلاف وثمرته لئلايطول النزاع والخلاف فيما لا فائدة تحته، فتشتغل به عن الأهم فالأهم. فأما من حكى خلافًا في مسألة ولم يستوعب أقوال الناس فيها فهو ناقص إذ قد يكون الصواب في الذي تركه، أو يحكي الخلاف ويطلقه ولاينبه على الصحيح من الأقوال فهو ناقص أيضًا، فإن صحح غير الصحيح عامدًا فقد تعمد الكذب، أو جاهلًا فقد أخطأ، وكذلك من نصب الخلاف فيما لا فائدة تحته أو حكى أقوالًا متعددةً لفظًا ويرجع حاصلها إلى قول أو قولين معنى فقد ضيع الزمان وتكثر بما ليس بصحيح فهو كلابس ثوبي زور، والله الموفق للصواب". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200727

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں