بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ادھار پر گھر خریدنا


سوال

ایک خاتون کی رہائش ایسے علاقے میں ہے، جہاں بنیادی سہولتیں میسر نہیں اور ماحول بھی اچھا نہیں، جس کی وجہ سے بچوں کے رشتے نہیں ہو رہے۔ان کا ارادہ یہ ہے کہ اس گھر کو فروخت کر کے دوسرے علاقے میں گھر لے لیں۔ لیکن فروخت کرنے کے بعد جو قیمت حاصل ہو رہی ہے اس سے نیا گھر لینا ممکن نہیں ہو رہا اور انہیں مزید پیسے ادا کرنے ہوں گے، جس کی ان کے پاس فوری کوئی گنجائش نہیں۔ سوال یہ ہے کہ گھر فروخت کر کے حاصل ہونے والی قیمت پر نیا گھر حاصل کر لیں اور وہاں رہتے ہوئے بقایا رقم ماہانہ بنیادوں پر ادا کریں۔ ایسی صورت میں یہ سود تو نہیں ہو گا؟ اور کیا یہ معاملہ کرنا شرعی حساب سے درست ہے؟

جواب

اگر گھر  کی قیمت عقد کے وقت ہی متعین ہو جائے  اور ادائیگی کا کچھ حصہ فوراً  ادا کردیا جائے اور باقی حصہ ماہانہ ادا کردیا جائے، اور ادائیگی  میں تاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ بھی نہ لگایا جائے تو اس طرح خریدنے میں کوئی حرج نہیں ۔

"صح بثمن حال وهو الأصل، ومؤجل إلی معلوم لئلا یفضي إلی النزاع". (شامي، مطلب فی الفرق بین الأثمان والمبیعات،  ۴/ ۵۳۱) 

( فتاوی دارالعلوم دیوبند 14/417) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200827

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے