بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اختیاری پراویڈنٹ فنڈ میں حصہ لے کر ملنے والی اضافی رقم کا حکم


سوال

میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں جو پراویڈنٹ فنڈ اپنے ملازمین کو دیتی ہے، یہ پراویڈنٹ فنڈ اختیاری  ہے، اگر کوئی ملازم اس میں حصہ نہ لینا چاہے تو نہ لے، اب کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پراویڈنٹ فنڈ ختم کر کے جس ملازم کی جتنی رقم بنتی ہے، وہ ادا کر دے۔ مجھے جو رقم مل رہی ہے، اس میں میری تنخواہ سے جو رقم کٹتی ہے،وہ مجھے ملے گی،  مزید جو رقم کمپنی نے اپنی طرف سے شامل کی ہے وہ بھی ملے گی، اور مزید وہ رقم جو سرمایہ کاری کرنے پر اضافہ ہوتی ہے، یہ تینوں قسم کی رقمیں شامل کر کے ملیں گی۔ یہ بات مجھے واضح ہے کہ میری تنخواہ سے کٹوتی ہوئی رقم اور میری کمپنی کی طرف سے دیا جانے والا اضافہ حلال ہے، جو رقم سرمایہ کاری پر ملے گی، اس کے بارے میں میں نے پہلے سے کمپنی کو درخواست دی تھی کہ میری تنخواہ کی کٹوتی اور کمپنی کی طرف سے ملنے والے اضافے پر مجھے سود نہ دیا جائے، میری درخواست نا منظور ہوئی اور مجھ سے کہا گیا کہ میں از خود اضافی ملنے والی رقم صدقہ کر دوں، اگر میں اس کو سود سمجھتا ہوں،  اور دوسری بات یہ بھی واضح کر دوں کہ ٹرسٹ کو چلانے والے کمپنی کے نمائندے ہوتے ہیں، ان کے تقرر میں ہمیں کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے،  نہ ہم ان کی انویسمنٹ کے کسی فیصلے میں ہوتے ہیں، نہ ہم ان پر کسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے وہ ہمارے وکیل تو نہ ہوئے تو کیا یہ ریٹرن میں ملنے والی رقم ہمارے لیے جائز اور حلال ہو سکتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں جو رقم سرمایہ کاری پر مل رہی ہےاس میں  احتیاط یہ ہے کہ صدقہ کردی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143804200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے