بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی کی بقایا رقم کا مصرف


سوال

اجتماعی قربانی کے نام سے فی حصہ 13000روپے لے کر جانور خریدا ، 70000ہزار جانور کی قیمت ، 8000ہزارقصائی کی اجرت اور 2000ہزار گھاس رکھوالی کاخرچ ، جس کا علم سب کو ہے اور یہ معروف ومشہور ہے،  پر حصہ داروں کو اعتراض بھی نہیں .اب باقی رقم 11000 ہزار اجتماعی قربانی کا منتظم بغیر حصہ داروں کو بتائے رکھ لیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ اگر رقم بطور مزدوری  شرکا کو رکھے توپھر شرعی حکم کیا ہے؟ 

جواب

اجتماعی قربانی میں اگر رقم بچ جائے تو بقیہ رقم  شرکا کو واپس کرنا لازم ہے، منتظم کے لیے شرکا کی اجازت کے بغیر بچی ہوئی رقم رکھنا جائز نہیں،  اگر منتظمین اجرت کے لیے کچھ لینا چاہیں تو ابتدا سے ہی متعین کرکے لے سکتے ہیں، فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144010200904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں