بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1441ھ- 09 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی دعا میں آمین کہنا


سوال

جب فرض نماز کی جماعت کے بعد امام صاحب دعا کراتے ہیں یا کسی اور موقع  پر امام صاحب اجتماعی دعا کرا رہے ہوں تو اس دوران مقتدی صرف اسی دعا پر آمین کہے یا ساتھ ساتھ اپنے طور پہ بھی دعا مانگ سکتا ہے؟

جواب

اجتماعی دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ اگر امام کی آواز آرہی ہو تو ’’آمین‘‘  کہنا چاہیے، اور ’’آمین‘‘  کہنے والا بھی اس دعا میں شامل سمجھا جاتاہے، قرآنِ مجید میں ایک موقع پر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے بارے میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔ جب کہ روایات میں ہے کہ دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام فرما رہے تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام اس پر آمین کہہ رہے تھے ۔

"عن حبیب بن مسلمة الفهري، وکان مستجابًا، أنه أمَّر علی جیش، فدرب الدروب، فلما لقي العدو، قال للناس: سمعت رسول الله ﷺ یقول: لایجتمع ملأ فیدعو بعضهم ویؤمن سائرهم، إلا أجابهم الله".  (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۴/ ۲۲، رقم: ۳۵۳۶، المستدرك، کتاب معرفة الصحابة، قدیم ۳/ ۳۹۰، مکتبة نزار مصطفی الباز ۶/ ۲۰۲۳، رقم: ۵۴۷۸، مجمع الزوائد ۱۰/ ۱۷۰)

ترجمہ: حبیب بن مسلمہ الفہری (جو  مستجاب الدعوات تھے) کے بارے میں منقول ہے کہ  انہیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا، جب دشمن سے سامنا ہوا تو انہوں نے لوگوں سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی مجمع جمع ہواور بعض (کوئی ایک) دعا کرے اور باقی سب آمین کہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرماتے ہیں۔

"عن محمد بن قیس، عن أبیه، أن رجلًا جاء زید بن ثابت رضي الله عنه، فسأله عن شيء، فقال له زید: علیك بأبي هریرة، فإني بینما أنا وأبو هریرة وفلان ذات یوم في المسجد، ندعو ونذکر ربنا عز وجل إذ خرج علینا رسول الله ﷺ حتی جلس إلینا، فسکتنا، فقال: عودوا للذي کنتم فیه، قال زید: فدعوت أنا وصاحبي قبل أبي هریرة، وجعل النبي ﷺ یؤمن علی دعائنا ... الخ "  (المعجم الأوسط، دارالفکر ۱/ ۳۳۸، رقم: ۱۲۲۸، المستدرك علی الصحیحین للحاکم، کتاب معرفة الصحابة، مکتبة نزار مصطفی الباز ۶/ ۲۲۱۸، رقم: ۶۱۵۸)

ترجمہ: حضرت قیس مدنی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت زید بن ثابت ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کسی چیز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: تم جاکر یہ بات حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھو؛ کیوں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت ابوہریرہ اور فلاں آدمی ہم تینوں مسجد میں دعا کررہے تھے، اور اپنے ربّ کا ذکرکررہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے تو ہم خاموش ہوگئے،  پھر فرمایا: جو تم کررہے تھے اسے کرتے رہو،  چناںچہ میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابوہریرہ سے پہلے دعاکی اور حضورﷺ ہماری دعا پر آمین کہتے رہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ دعا کی: اے اللہ! میرے ان دوساتھیوں نے جو کچھ تجھ سے مانگا میں وہ بھی تجھ سے مانگتاہوں اور ایسا علم بھی مانگتاہوں جو کبھی نہ بھولے۔ حضورﷺ نے فرمایا: آمین۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم بھی اللہ سے وہ علم مانگتے ہیں جو کبھی نہ بھولے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ دَوسی نوجوان (یعنی حضرت ابوہریرہؓ) تم دونوں سے آگے نکل گئے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200768

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے