بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی جہری ذکر کرنا


سوال

کیاذکر جہری جائزہے؟ اجتماعی ذکر کا کیا حکم ہے؟

جواب

 اجتماعی ذکر کے حلقوں کا اہتمام  پسندیدہ اور قابلِ تائید عمل ہے، لیکن اس کے لیے کچھ  شرائط ہیں:

 1: ریا ونمود کا خوف نہ ہو۔  2: اصرار والتزام نہ ہو، یعنی شرکت نہ کرنے والوں کو اصرار کرکے شرکت پر آمادہ نہ کیا جائے اور شریک نہ ہونے والوں پر طعن وتشنیع نہ کی جائے۔ 3: آواز شرکاءِ حلقہ تک ہی محدودو رکھی جائے۔ مسجد میں  ذکر  یا کوئی بھی ایسا عمل اتنی  آواز سے کرنا جس سے دیگر لوگوں یااہلِ محلہ کو تشویش ہوتی ہو قطعاً جائز نہیں ہے۔ 

ردالمحتار میں ہے:

"أجمع العلماء سلفاً وخلفاً علی استحباب ذکر الجماعة في المساجد وغیرها إلا أن یشوش جهرهم علی نائم أو مصل أو قارئ"  الخ (ج:۱، ص: ۶۶۰)فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

مسجد میں اجتماعی ذکر بالجہر کا حکم


فتوی نمبر : 144103200020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے