بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جمادى الاخرى 1441ھ- 17 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

اب اگر ہاتھ لگایا تو طلاق ہوگی کہنے کا حکم


سوال

میں اپنی بیوی کو ایک مہینے سے صحبت کرنے کا کہتا رہا، لیکن وہ ہمیشہ انکار کرتی تھی، میں نے ایک بار پھر کہا تو پھر انکار کیا، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس سے کہا: "اب اگر میں نے پھر ہاتھ لگایا تو تم مجھ پر طلاق ہوگی"۔  نیت یہ تھی کہ جب تک تم قریب نہیں آؤگی میں نہیں آؤں گا ۔ اب بیوی میرے قریب آنا چاہتی ہے، اس سے طلاق واقع ہوجائے گی یا ضائع ہو جائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ "اب اگر میں نے ہاتھ لگایا توتم مجھ پر طلاق ہوگی"یہ تعلیقِ طلاق کی صورت ہے، اور الفاظ بھی صریح ہیں، لہذا اب بیوی کے ساتھ ہم بستری کی صورت میں شرط کے پائے جانے کی بنا پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی۔البتہ آپ کو بیوی کی عدت کے دوران (تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے) رجوع کا حق حاصل ہوگا، یعنی ایک طلاق واقع ہوتے ہی آپ اپنی بیوی سے رجوع کرسکتے ہیں، رجوع زبانی بھی کیاجاسکتا ہے، جس کا  بہتر طریقہ یہ ہے کہ (طلاق واقع ہوجانے کے بعد، عدت کے اندر) دو گواہوں کی موجودگی میں اس سے یہ کہہ دیں  کہ میں نے تم سے رجوع کیا، اور صرف حقوق زوجیت کی ادائیگی سے بھی رجوع ثابت ہوجائے گا۔اس کے بعد دونوں پھر میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں، اور آئندہ ملنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

آپ کے لیے حل یہ ہے کہ آپ بیوی سے قربت کرلیجیے، ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی، عدت کے دوران رجوع بھی کرلیجیے، البتہ یہ یاد رہے کہ اس ایک طلاق کے بعد  آئندہ کے لیے آپ کو فقط دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا،اور آئندہ جب کبھی بھی مزید دو طلاقیں دیں تو بیوی حرام ہوجائے گی؛ اس لیے الفاظ کے استعمال میں احتیاط کیجیے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے