بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اب اگر تیرے ہاتھ کا کھانا کھایا تو تمہیں طلاق، کہنے کا حکم


سوال

میرے ایک عزیز ہیں جن کا مسئلہ ذرا پیچیدہ ہے اور خصوصی توجہ کا طالب ہے، جناب کی شادی کو 7برس ہو چکے ہیں ان کے 2بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اس کے علاوہ ایک ذہنی معذور سوتیلا بیٹا ہے، میاں بیوی کا آپسی جھگڑا رہتا تھا اور یہ بھائی اپنی بیوی کو جو کہ زبان کی کافی تند ہے ڈرانے کے لیے مشروط طلاق دے دیتے تھے اور بعد میں شرط واپس لے لیتے تھے، جیسا کہ انہوں نے بتایاہے کہ کہتے تھے کہ اب اگر تیرے ہاتھ کا کھانا کھایا تو تمہیں طلاق، اور پھر دین کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کہہ کر کہ میں نے کہا تھا کہ اگر اب کھایا تو طلاق اور میں نے اب نہیں بعد میں کھایا تھا اور بتاتے ہیں کہ ان کی اب سے کوئی  خاص مراد نہیں ہوتی تھی اور طلاق یہ کبھی نہیں دینا چاہتے تھے،  صرف اور صرف بیوی کو راہ پر لانے کی خاطر ایسا کرتے تھے اور اب کافی نادم ہیں،  گھر میں شام کو ان کی موجودگی ضروری ہوتی ہے؛ کیوں  کہ بیوی ڈاکٹر ہے اور شام 7 سے 10 کلینک کرتی ہیں، خیر ہمیں معلوم ہوا تو ان کو سمجھایا اور انہوں نے توبہ کی اور گزشتہ تین چار برس سے ایسی کوئی حرکت نہیں کی انہوں نے،  لیکن اب پتا چلا ہے کہ یہ حرکت یہ 7 بار سے زائد کر چکے ہیں تو کیا ان کا رشتہ باقی ہے؟  نیز اگر رشتہ ختم ہو گیا ہے تو  کیا یہ بیوی سے جسمانی تعلق کے بغیر اپنے بچوں سے ملاقات کر سکتے ہیں؟  اور گھر کے دوسرے کمرے میں رہ سکتے ہیں؟ کیوں کہ ان کی بیوی کا کوئی عزیز ان کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتا، اور ان بھائی صاحب کا بھی یہ واحد گھر ہے جو بیوی کے نام ہے۔ نیز کیا حلالہ کر سکتے ہیں؟ کیوں کہ گھر برباد ہو نے  کا ڈر ہے، بچے چھوٹے ہیں، ان کی بیوی کا کہنا ہے کہ طلاق انہوں نے دی ہی نہیں اور نہ ان کی نیت تھی، صرف ڈرانے کے لیے ایسا کرتے تھے، مگر یہ بھائی اب تبلیغ میں جڑتے ہیں اور خشوع رکھتے ہیں اور راہ نمائی چاہتے ہیں۔  آپ سے مکمل راہ نمائی کی مؤدبانہ درخواست ہے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ جب پہلی مرتبہ کہے تھے تو اس سے ایک طلاق معلق ہوگئی تھی پس اس بات کے بعد جس وقت بھی بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھایا تھا تو ایک معلق طلاق واقع ہوگئی تھی، اس کے بعد اگر مذکورہ شخص نے بیوی کی تین ماہواریوں کی تکمیل سے پہلے پہلے اگر رجوع کرلیا تھا تو دونوں کا نکاح برقرار رہا، اور جب دوسری مرتبہ کہنے کے بعد بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھایا تو اس وقت دوسری طلاق واقع ہوگئی، اور اگر دوسری طلاق کے بعد تین ماہواریوں کے مکمل ہونے سے پہلے جسمانی تعلق قائم کرلیا تھا تو رجوع ثابت ہوگیا تھا، اور پھر جب تیسری مرتبہ یہی الفاظ کہنے کے بعد بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھانے کے ساتھ ہی تیسری طلاق واقع ہوگئی تھی اور مذکورہ خاتون اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی تھی، اب نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دونوں کا دوبارہ نکاح حلال ہے۔

البتہ  اگر یہ صورت پیش آئی ہو کہ مذکورہ الفاظ پہلی مرتبہ کہنے کے بعد جب کھانا کھایا تھا اور ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی تھی، اس کے بعد تین ماہواریوں تک رجوع نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں تین ماہواریاں مکمل ہوتے ہی مذکورہ شخص کی بیوی اس کے نکاح سے آزاد ہوگئی تھی، اس کے بعد جتنی دفعہ درج بالا الفاظ کہے تھے وہ سب کے سب لغو شمار ہوں گے، اور اب دوبارہ ساتھ  رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔

اب میاں بیوی دونوں اللہ تعالیٰ کو حاضر  ناظر جان کر  غور کرلیں کہ انہوں نے رجوع کیا تھا یا نہیں؟ پھر اسی کے مطابق عمل کریں۔

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان مرد کو نکاح کے بعد ایک بیوی کی زندگی میں اسے تین عدد تک طلاق دینے کا حق دیا ہے، لیکن تینوں طلاق کا حق استعمال کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں ہے، گویا یہ آخری حد ہے جو مجبوری کی صورت میں اختیار کی جاسکتی ہے، تاہم تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، آپ ﷺ کے زمانے میں اس طرح کے واقعات پیش آئے تو آپ ﷺ نے تین طلاقیں نافذ فرمائیں، لیکن ساتھ ہی غصے اور ناراضی کا اظہار بھی فرمایا کہ میری موجودگی میں اللہ کی کتاب اور اس کی حدود سے کھیلا جارہاہے! اس لیے دین کا حکم یہ ہے کہ جب ایک شخص حدود تجاوز کرتے ہوئے تین طلاقیں دے دے تو اسے بیوی سے نہ رجوع کا حق رہتاہے نہ ہی نکاحِ جدید کا حق رہتاہے۔ دین کا مزاج یہ ہے کہ اب ان دونوں کو اپنی زندگی کے رُخ جدا کردینے چاہییں، اور اصولی طور پر بھی اس شخص کی سزا یہی ہونی چاہیے کہ ساری زندگی ان دونوں کے ملنے کی کوئی صورت نہ ہو۔  تاہم اگر مطلقہ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے  شخص سے نکاحِ صحیح  کرتی ہے اور دوسرا شوہر وفات پاجاتاہے، یا دوسرا شوہر  حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد از خود (یعنی اس سے نکاح کرتے وقت جانبین سے یہ شرط نہ لگائی گئی ہو کہ حقوق کی ادائیگی کے بعد طلاق دے گا پھر بھی وہ) طلاق دے دیتاہے اور دوسرے شوہر کی عدت بھی گزر جاتی ہے تو اب نصِّ قرآنی اور حدیثِ مبارک کی رو سے پہلے شوہر کے لیے اجازت ہے کہ  وہ مہرِ جدید کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاحِ جدید کرے، اس صورت میں گویا اسے از سرِ نو  سابقہ بیوی کا اختیار حاصل ہوتاہے، اس لیے شریعت نے اسے دوبارہ تین طلاق کا حق دیا ہے۔ اور اسی کو حلالہ شرعیہ کہا جاتاہے۔ 

حلالہ شرعیہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی دوسرے شخص سے طلاق دینے کی شرط کے ساتھ نکاح کیا جائے یا دوسرا شوہر خود یہ شرط ذکر کرے، یا اس سے بھی بڑھ کر یہ بے حیائی کی جائے کہ پہلا شوہر خود اس شرط کے ساتھ  کسی دوسرے کا نکاح کروائے یا اس پر رضامندی کا اظہار کرے۔ یہ سب صورتیں شریعت میں ناپسندیدہ ہیں اور حدیث میں ان پر لعنت آئی ہے۔

بہرحال مذکورہ تفصیل کے مطابق جب تک مذکورہ خاتون کسی اور مرد سے نکاح نہیں کرلیتی اور وہ صحبت کے بعد اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہیں دے دیتا یا اس کا انتقال نہیں ہوجاتا اس وقت تک وہ پہلے شوہر  کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ اور اگر ایسی صورت نہ ہو تو مذکورہ شخص صرف اپنے بچوں سے تعلق رکھ سکتا ہے۔  نیز مذکورہ شخص اور اس کی سابقہ بیوی اگر جوان ہیں تو ایک گھر میں رہنے کی اب اجازت نہ ہوگی۔دونوں کو جلد از جلد اپنی رہائش مستقل طور پر جدا کردینی چاہییں، البتہ اگر رہائش کی بہت شدید مجبوری ہو تو  دو شرائط کے ساتھ اس گھر میں رہائش رکھی جاسکتی ہے:

1- خاندان کا کوئی ایسا بزرگ یا سنجیدہ فرد ان کے ساتھ ضرور ہو، جس کی وجہ سے ان دونوں کے لیے کسی بھی وقت باہم تنہائی یا تعلق کا امکان باقی نہ رہے۔

2- دونوں کی رہائش بالکل جدا جدا کمروں میں ہو اور دونوں اس طرح پردے کا اہتمام کریں جس طرح  اجنبی مرد اور عورت کا پردہ ہوتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201715

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے