بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ابو مسعود اور ابن مسعود، ابن عمر اور ابن عمرو رضی اللہ عنہم


سوال

 حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ الگ نام ہے یا ایک ہے ؟ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ الگ نام ہے یا ایک ہے؟

جواب

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ دونوں الگ الگ صحابی ہیں، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جلیل القدر مہاجر صحابی ہیں، سابقین اولین میں سے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خادم تھے، شرکاءِ بدر میں سے ہیں، ابوجہل کی گردن کاٹنے والے ہیں۔  اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ الگ صحابی ہیں، ان کا پورا نام عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ ہے، یہ انصاری صحابی ہیں، یہ بھی صاحبِ فضائل ہیں، بیعتِ عقبہ میں حاضر تھے، غزوہ بدر میں ان کی شرکت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔

قلادة النحر في وفيات أعيان الدهر (1/ 320):
" [أبو مسعود البدري] 
عقبة بن عمرو بن ثعلبة أبو مسعود البدري.
عده البخاري في «صحيحه» فيمن شهد بدراً ، وأكثرهم على أنه لم يشهدها، وإنما نزل على ماء ببدر، فقيل له: البدري الأنصاري، وهو ممن شهد العقبة. توفي سنة أربعين، رضي الله عنه".

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمرو  رضی اللہ عنہ دو مختلف صحابہ ہیں، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں، جب کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ  عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں جو کاتبانِ وحی میں سے تھے۔ یہ دونوں صحابی بھی اصحابِ فضائل میں سے ہیں۔

الإستيعاب في معرفة الأصحاب (1/ 292، بترقيم الشاملة آليا):
"عبد الله بن عمرو بن العاص بن وائل بن هاشم بن سعيد بن سهم بن عمرو بن هصيص بن كعب بن لؤي القرشي السهمي، يكنى أبا محمد. وقيل: يكنى أبا عبد الرحمن. وقيل أبو نصير وهي غريبة. واما ابن معين فقال: كنيته أبو عبد الرحمن، والأشهر أبو محمد. أمه ريطة بنت منبه بن الحجاج السهمية، ولم يفته أبوه في السن إلا باثنتي عشرة، ولد لعمرو: عبد الله وهو ابن اثنتي عشرة سنة. أسلم قبل أبيه وكان فاضلاً حافظاً عالماً، قرأ الكتاب واستأذن النبي صلى الله عليه وسلم في أن يكتب حديثه، فأذن له، قال: يا رسول الله أكتب كل ما أسمع منك في الرضا والغضب؟ قال: " نعم، فإني لا أقول إلا حقاً " .
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے