بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1441ھ- 06 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

ابان نام منصرف ہے یا غیر منصرف؟


سوال

اسم (أَبَان) منصرف ہے کہ غیر منصرف ہے؟  اس کا منصرف ہونا کیوں اولی اور افصح ہے؟

جواب

لفظ  ’’أَبَان‘‘ منصرف اور غیر منصرف  دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔  اگر ’’أَبَان‘‘  کو فعل کے وزن پر  متصور کیا جائے  تو وزنِ فعل اور علم کی وجہ سے غیر منصرف پڑھا جائے گا۔  اور اگر ’’أَبَان‘‘ کو اسم مان لیا جائے تو  چوں کہ اس کا وزن فعال ہے، اس صورت میں الف نون زائدتان نہیں ہیں،  بلکہ اصلی ہیں؛  اس لیے غیر منصرف کے دو سبب  نہ پائے جانے کی وجہ سے  ’’أَبَان‘‘ منصرف پڑھا جائے گا۔

شرح قطر الندى (ص: 318):
"العلة الثامنة الزيادة: والمراد بها الألف والنون الزائدتان نحو سكران وعثمان". 

العرف الشذي شرح سنن الترمذي (1/ 54):
"(قوله: أبان بن صالح ... الخ) إن كان على وزن الفعل فغير منصرف، وإن كان على وزن فعال فمنصرف".

فيض القدير (1/ 156):
"( أبان) بفتح الهمزة والموحدة منصرف؛ لأنه فعال كغزال، وقيل: هو أفعل فلاينصرف؛ لوزن الفعل مع العلمية".

شرح ألفية ابن مالك للشاطبي = المقاصد الشافية (5/ 622):
"فعلى هذا ما كان من الأسماء في آخره الألف والنون، واحتملت النون فيه الأصالة والزيادة، فلك وجهان في الصرف وعدمه، اعتبارًا بأصالتها أو زيادتها فيجوز لك -إذا سميت برمان، أو حسان، أو دهقان، أو شيطان- وجهان، فإن اعتقدت أنها من الرم والحس والدهق، ومن "شيط"، لم تصرفها، وإن اعتقدت الحمل على قواك: أرض مرمنه، ومن الحسن، والدهقنة، والتشيطن صرفتها".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201981

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے