بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آٹے یا رنگ وغیرہ کی وجہ سے وضو کے دوران کسی عضو کے کچھ حصے کا خشک رہ جانا

سوال

وضو کے دوران اگر کسی عضو کا کوئی حصہ تر ہونے سے رہ جائے تو وضو کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح اگر ناخن میں لگا ہوا آٹا رہ جائے اور بعد میں پتا چلے تو کیا حکم ہوگا جب کہ آٹا لگے رہنے کی وجہ سے پانی اندر نہیں پہنچا تھا؟

جواب

آٹا خشک ہوکر اگر ناخن میں لگا رہ جائے تو وہ جسم تک پانی پہنچنے سے مانع ہوتاہے، لہٰذا وضو میں جن اعضاء کا دھونا فرض ہے وضو کے دوران اُن اَعضاء میں سے کوئی بھی عضو یا کسی بھی عضو کا تھوڑا سا بھی حصہ اگر آٹا جمنے کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے  خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوگا، اگر وضو کرلینے کے بعد  (وضو توڑنے والی کوئی بات پیش آنے سے پہلے) پتا چلا کہ اعضاءِ وضو میں سے کوئی جگہ خشک رہ گئی تھی تو دوبارہ مکمل وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ جو بھی چیز (آٹا یا رنگ وغیرہ) مانع بنی ہو اس کو ہٹاکر صرف اس خشک رہ جانے والی جگہ کو دھو نا ہوگا، البتہ اس دوران جو نمازیں پڑھی گئی ہوں ان کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144010200952
تاریخ20-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں