بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

آن لائن کرنسی کا کاروبار


سوال

"فاریکس ٹریڈنگ بزنس"

میں انٹرنیٹ پر فارن کرنسی کا کاروبار کرتا ہوں،  جس میں ایک base کرنسی ہوتی ہے اور دوسری quote کرنسی. مثال کے طور پہ EURUSD اس میں پہلے تین ڈجٹ بنیاد ہے اور آخری تین ڈجٹ quote ہے. کمپنی margin کے نام سے ہمارے سودے کے مطابق اپنے ساتھ ہماری کچھ اماؤنٹ رکھ لیتی ہے, جو آرڈر ختم کرتے ہی ہمارے اکاؤنٹ میں واپس کر دی جاتی ہے. مارکیٹ انڈیکس میں کمی یا اضافہ کی صورت میں ہم sell یا Buy لگاتے ہیں. اس کے sell یا Buy کے پراسس کو order کہتے ہیں. جب ہم کوئی آرڈر لگاتے ہیں تو اس کا فائدہ یا نقصان ہمیں تب ہی  پہنچتا ہے جب ہم آرڈر کو close کردیتے ہیں. ایک اور صورت نقصان کی تب سامنے آتی ہے جب ہم اپنے اکاؤنٹ سے زیادہ بڑا  آرڈر لگاتے ہیں اور مارکیٹ انڈیکس ہماری مخالف سمت میں چلی جاتی ہے. تو اس صورت میں ہم اپنے تمام سرمایہ سے محروم ہو جاتے ہیں.

نوٹ! اس کاروبار میں ہماراباقاعدہ سرمایہ لگتا ہے, جس میں ہم امریکی ڈالر کے ذریعے اکاؤنٹ کھولتے ہیں. قرضوں پر کوئی خرید و فروخت نہیں ہوتی . سود وصول نہیں کیا جاتا، بلکہ سروس دینے والا ادارہ اپنا مخصوص کمیشن لیتا رہتا ہے, جو  پرسنٹیج کی صورت میں ہوتا ہے.

جواب

 کرنسی کی بیع شرعاً "بیعِ صرف" ہے، جس  میں بدلین (جانبین کی کرنسی) پر مجلس میں قبضہ ضروری ہےاور  دونوں جانب سے یا کسی ایک جانب سے ادھار ناجائز ہے، لہذا ایسے تمام سودے ناجائز ہیں، جن میں کرنسی کی خریدوفروخت ادھار ہوتی ہے  یا اگر  خرید و فروخت  نقد ہوتی ہے، مگر عقد کے دونوں فریق  یا کوئی ایک فریق اپنے حق پر قبضہ نہیں کرتا۔ الحاصل باہمی  تقابض نہ پائےجانے کی وجہ سے ایسے سودے فاسد ہوں گے اور نفع حلال نہ ہوگا۔

انٹرنیٹ پر کرنسی کے کاروبار میں عموماً  کرنسی کی خرید و فروخت ادھار ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں  نہ  کرنسی ادا کی جاتی ہے، اور نہ ہی کرنسی  وصول کی جاتی ہے، بلکہ محض سودے ہوتے ہیں اور کرنسی کے مارکیٹ انڈیکس کے فرق سے نفع بنالیا جاتا ہے، یا انٹرنیٹ پر سودے ہوتے رہتے ہیں اور اکاؤنٹ میں رقم باقی رہتی ہے اور  دن کے آخر میں رقم میں نفع کا اضافہ یا نقصان کی کٹوتی کردی جاتی ہے۔ لہذا ان صورتوں پر مشتمل سودے حلال نہیں ہوتے۔

مذکورہ صورت میں اگر واقعۃً سرمایہ لگایا جاتا ہے تو کرنسی کے کاروبار میں امکانِ نقصان یا حقیقی سرمایہ لگنے سے انکار نہیں ، لیکن عموماً حقیقی یا حکمی قبضہ  نہ ہونے کی وجہ سے بیع فاسد ہوتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

فاریکس ٹریڈنگ کے حوالے سے مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

فاریکس ٹریڈنگ پر کرنسی کی خرید و فروخت کا حکم


فتوی نمبر : 144012201982

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے