بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

آن لائن خدمات فراہم کرتے ہوئے تصاویر لینا، شناختی کارڈ کی فوٹو اسٹیٹ کرنا


سوال

میں آن لائن خدمات فراہم کرتا ہوں،  بعض اوقات جان دار چیزوں کی تصاویر بھی فارمز وغیرہ میں موجود ہوتی ہیں۔ان کے علاوہ پاسپورٹ کے لیے رنگین تصاویر کا بھی تقاضا کیا جاتا ہے۔شناختی کارڈ کی فوٹو سٹیٹ کی سہولیات بھی ہم فراہم کرتے ہیں۔لہٰذا ہمیں فتوٰٰی درکار ہے کہ کسی شرعی ضرورت کی حامل چیز  (فارم،پاسپورٹ کے لیے تصویر کسی ادارے کے لیے شناختی علامت وغیرہ ) کی تصویر لینا شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ 

جواب

اگر آپ خود تصویر کشی نہیں کرتے، بلکہ کسٹمر کا کام کرنے کے لیے ضرورت کے مواقع پر اس سے تصویر طلب کرتے ہیں تو  اس میں تصویر سازی کاگناہ نہیں ملے گا، لیکن اگر خود تصویر بناتے ہیں تو تصویر کشی کا پیشہ جائز نہیں خواہ کسی ضرورت کی بنیاد پر ہو۔

شناختی کارڈ  اور پاسپورٹ کی فوٹو اسٹیٹ کرنا جائز ہے، اس میں مقصود  تصویرکشی نہیں ہوتی۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’با تصویر اشیاء،بچوں کے باجے اور بانسری وغیرہ کی خرید و فروخت کا حکم:

"البتہ ایسی اشیاءجن میں تصویر کا خریدنا بیچنا مقصود نہ ہو ،جیسے دیا سلائی کے بکس کہ ان پر تصویر بنی ہوتی ہے،مگر تصویر کی بیع و شراءمقصود نہیں ہوتی تو ایسی چیزوں کا خریدنا بیچنا مباح ہو سکتا ہے‘‘۔ (١١/ ۱۱۲/ ط:ادارۃالفاروق۔کراچی) فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144008201605

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے