بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1441ھ- 15 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اشتہارات دیکھنے کو کمائی کا ذریعہ بنانے کاحکم


سوال

میں ایک آن لائن کام کرتاہوں،  ایک امریکی کمپنی ہے وہ ایڈ چلاتی ہے، اس کی ویب سائٹ پر ہم سو ڈالر کا پیکج یا پوائنٹ خریدتے ہیں، پھر کمپنی ہمیں کچھ ایڈز بھیجتی ہے، جو ہم کلک کرتے ہیں، اس کلک کرنے کے کمپنی ہمیں پیمنٹ کرتی ہے جو ڈالرز میں ہوتی ہے، اگر ہم سو ڈالرز انویسٹ کرتے ہیں تو روزانہ 5 ڈالرز کما سکتے ہیں اور جو ایڈز آتے ہیں، وہ بھی ویڈیو میں نہیں ہوتے،  کیا یہ کام صحیح ہے؟

جواب

1-  یہ کام کرنا جائز نہیں، اس میں ایسے لوگ اشتہارات کو دیکھتے ہیں جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، اشتہارات دینے والی کمپنی کو ایسےافراد کی بنیاد پر  دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ ایک قسم کا دھوکا ہے۔
2-    جان دار کی تصویر کسی بھی طرح کی ہو، اس کا دیکھنا جائز نہیں، لہٰذا اس پر جو اُجرت لی جائے گی، وہ بھی جائز نہ ہوگی۔
3-    ان اشتہارات میں خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں، جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔
4-       شریعت میں بلا محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور اپنی محنت کی کمائی حاصل کرنے کی ترغیب ہے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200215

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں