بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جمادى الاخرى 1441ھ- 24 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

آنڈو بکرے کی قربانی کا حکم


سوال

آنڈو بکرے کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

آنڈو بکرے  کی قربانی جائز ہے، لیکن خصی بکرے کی زیادہ  افضل ہے۔ مشکاۃ المصابیح میں ہے:

’’ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کے دن دو سینگ دار بھورے رنگ کے مینڈھے ذبح کیے جو خصی تھے ۔۔۔‘‘ الخ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی۔ مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب فی الاضحیۃ، الفصل الثانی، (ص:230) ط: مکتبۃ البشریٰ)

اور اگر آنڈو بکرا پیشاب پینے کا عادی ہو جس کی وجہ سے اس کے گوشت میں بدبو ہوگئی ہو تو  جب تک اس کے گوشت میں بدبو باقی رہے اس کا گوشت مکروہ ہے،  تاہم چوں کہ وہ دوسری صاف غذا بھی کھاتا ہے اس لیے اس کی قربانی جائز ہوگی۔

اس صورت میں اس کو اتنے دن تک اس طرح باندھ کر رکھا جائے کہ وہ پیشاب نہ پی سکے اور اس کے گوشت کی بدبو ختم ہوجائے  تو پھر اس کے گوشت کھانے  کراہت نہیں ہوگی۔ اس کی تحدید بعض نے دس دن سے اور بعض نے چار دن سے کی ہے،  اور بعض فقہاء فرماتے ہیں اس کی تحدید نہیں ہے، بلکہ اتنی مدت تک اس کو اس طرح رکھا جائے جس سے اس کے گوشت کی بدبو ختم ہوجائے تو اس کی کراہت ختم ہوجائے گی۔

الفتاوى الهندية (5/ 299):
والخصي أفضل من الفحل؛ لأنه أطيب لحما، كذا في المحيط.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 325): 

(و) لا (الجلالة) التي تأكل العذرة ولا تأكل غيرها.(قوله ولا الجلالة إلخ) أي قبل الحبس. قال في الخانية: فإن كانت إبلا تمسك أربعين يوما حتى يطيب لحمها والبقر عشرين وللغنم عشرة (قوله ولا تأكل غيرها) أفاد أنها إذا كانت تخلط تجزي ط.

الفتاوى الهندية (5/ 298):

ولا تجوز الجلالة وهي التي تأكل العذرة ولا تأكل غيرها، فإن كانت الجلالة إبلا تمسك أربعين يوما حتى يطيب لحمها والبقر يمسك عشرين يوما والغنم عشرة أيام والدجاجة ثلاثة أيام والعصفور يوما، كذا في فتاوى قاضي خان.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 306) 

(قوله ولو متولدا في ماء نجس) فلا بأس بأكلها للحال لحله بالنص وكونه يتغذى بالنجاسة لا يمنع حله، وأشار بهذا إلى الإبل والبقر والجلالة والدجاجة، وهي من المسائل التي توقف فيها الإمام فقال لا أدري متى يطيب أكلها. وفي التجنيس: إذا كان علفها نجاسة تحبس الدجاجة ثلاثة أيام، والشاة أربعة، والإبل والبقر عشرة، وهو المختار على الظاهر. وقال السرخسي: الأصح عدم التقدير وتحبس حتى تزول الرائحة المنتنة. وفي الملتقى: المكروه الجلالة التي إذا قربت وجد منها رائحة فلا تؤكل ولا يشرب لبنها ولا يعمل عليها، ويكره بيعها وهبتها وتلك حالها. وذكر البقالي أن عرقها نجس. وفي مختصر المحيط: ولا تكره الدجاجة المخلاة وإن أكلت النجاسة اهـ يعني إذا لم تنتن بها لما تقدم لأنها تخلط ولا يتغير لحمها وحبسها أياما تنزيه شرنبلالي على الوهبانية، وبه يحصل۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے