بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

آفس کی اشیاء کا اپنے ذاتی استعمال میں لانا


سوال

دفتر کے عام استعمال کی چیزیں جیسے  انٹرنیٹ ، کاغذ پرنٹر وغیرہ کے بارے میں شرعی راہ نمائی حاصل کرنی ہے۔ انٹرنیٹ تو سارا دن دفتری کام کے  لیے استعما ل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میر ی اپنی بھی آئی ڈی لاگ ان ہوتی ہے۔ اور یوٹیوب، فیس بک وغیرہ استعمال کرتا ہوں، لیکن دفتر کے کام کا حرج نہیں کرتا۔ اسی طرح پرنٹ کے بارے میں پوچھنا ہے کہ کبھی کبھی ذاتی کوئی پرنٹ آفس کے پرنٹر سے لیتا ہوں۔ اسی طرح دفتر میں میٹنگز ہوتی ہیں، جن کے لیے آنے والے مہمانوں کے حساب سے اشیاء آجاتی ہیں۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ جتنے لوگ ہماری طرف سے مدعو تھے وہ سارے آجاتے ہیں اور کبھی زیا دہ یا کم بھی ہوجاتا ہے۔ ان میں کچھ اشیا کبھی بچ جاتی ہیں، کبھی زیادہ بھی بچ جاتی ہیں۔ اور عام طور پر جوا سٹاف ہوتا ہے وہ ہی کھا لیتے ہیں، تو ان باقی اشیاء  یعنی چائے، کیک، سموسہ وغیر ہ کا بھی حکم بتا دیجیے۔ 

جواب

اگر آفس انتظامیہ کی طرف سے صراحتاً یا عرفاً اجازت ہو کہ انہوں نے اپنے ملازمین کو انٹرنیٹ یا پرنٹر یا اس طرح کی دیگر اشیاء   کی  جو سہولت دی ہے، اسے وہ عرف کے مطابق ہر جائز  ضرورت میں استعمال کرسکتے ہیں خواہ آفس کی ہو یا اس کے علاوہ، تو اس صورت میں آپ کے لیے اپنی جائز ضرورت کے لیے آفس کا انٹرنیٹ یا پرنٹر  معروف طریقے پر استعمال کرنا جائز ہوگا۔

اور اگر ان کی طرف سے صراحتاً اس کی ممانعت ہو کہ  نیٹ اور دیگر سہولیات کو صرف آفس کی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تو  پھر ذاتی ضرورت کے لیے اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔

نیز کھانے پینے کی اشیاء کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر میٹنگز ادارے کی ضروریات سے متعلق ہوں اور ادارے کی طرف سے ریفریشمنٹ کی اجازت ہو، اور مقررہ افراد کے حساب سے منگوانے کے باوجود اشیاء بچ جائیں تو انہیں استعمال کیا جاسکتاہے۔  اگر ادارے کی طرف سے اجازت نہ ہو اور ادارے کی رقم سے اشیاء منگوائی جائیں، یا ضرورت سے زیادہ منگوائی جائیں تو یہ درست نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200864

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے