بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

آبادی سے دور جمعہ کی نماز ادا کرنا


سوال

میں ایک حساس ادارے میں کام کرتا ہوں ، یہ ادارہ آبادی سے دورہے، یہاں ایک مسجدہے جس میں صرف ملازمین نماز ادا کرتے ہیں، باہرسے کسی غیرملازم کواجازت نہیں کہ وہ یہاں نماز اداکر ے، جمعہ کے دن ایک مسئلہ یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ یہاں نماز جمعہ پڑھی جائے یا نمازظہر؟! بعض اہلِ حدیث حضرات باقاعدہ نمازِجمعہ کااہتمام کرتے ہیں ان کاکہناہے کہ اتنابڑامجمع ہوجاتا ہے جتنا نمازجمعہ کی شرائط میں مطلوب ہے،اور واقعی ملازمین کا مجمع کافی ہوتا ہے، جب کہ میں اور بعض دیگر حضرات نمازظہراداکرتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط شہر یا اس کے مضافات کا ہونا ہے، قصبہ اور قریہ کبیرہ یعنی بڑا گاؤں بھی شہر کے حکم میں داخل ہے، لہذا قصبہ اور بڑے گاؤں میں بھی جمعہ ادا کرنا درست ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: جمعہ، تکبیرات  تشریق، عید الفطر  اور عید الاضحی کی نماز بڑے شہر میں  ہی  جائز ہے۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ ادارہ آبادی سے دور ہے تو وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا درست نہیں،  بلکہ جمعہ کے دن ظہر کی نماز ادا کی جائے گی۔

"(لقوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع")  ش: قال الزيلعي: هذا مرفوع غريب، وإنما وجدناه موقوفاً عن علي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- رواه عبد الرزاق في "مصنفه"، أخبرنا معمر عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -: «لا جمعة ولا تشريق ولا صلاة فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع أو مدينة عظيمة» ، وأخرجه عبد الرزاق أيضا، والبيهقي في "المعرفة" عن شعبة عن زبيد الأيامي به، ثم قال: وكذلك رواه الثوري عن زبيد به، وهذا إنما يروى عن علي موقوفا، فأما النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فإنه لا يروى عنه في ذلك شيء، وقال ابن حزم في " المحلى ": وذلك عن علي، وعن حذيفة: ليس على أهل القرى جمعة، إنما الجمع على أهل الأمصار مثل المدائن.

قلت: قول الزيلعي: وجدناه موقوفا، وقول البيهقي لم يرو عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لايستلزم عدم وقوف غيره على كونه مرفوعاً، والإثبات مقدم على النفي، وقد ذكر الإمام خواهر زاده في "مبسوطه" أن أبا يوسف ذكره في " الإملاء " مسندًا مرفوعًا إلى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأبو يوسف إمام في الحديث حجة، ولم يثبت عنده كونه مرفوعا لما قال: إنه مسند مرفوع، ولئن سلمنا أنه موقوف فهو موقوف صحيح، وهو محمول على السماع، لأنه لا يدرك بالعقل وهو مقول علي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حجة". (البناية شرح الهداية 3 / 44 ط: دار الكتب العلمية)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں